BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 November, 2005, 18:29 GMT 23:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیرس میں اجتماعات پر پابندی
گزرنے والوں کی شناخت طلب کی جا رہی ہے
دارالحکومت پیرس ابھی تک فسادات سے محفوظ ہے
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جلسوں پر پابندی لگا دی گئی ہے، اور ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکار اس پر عمل درآمد کرانے کے لیےسڑکوں پر گشت کر رہے ہیں۔

یہ قدم ملک میں بڑھتے ہوئے فسادات کو روکنے کے لیےاٹھایا گیا ہے، اور اس کا اطلاق ہفتے سے کیا گیا ہے۔ یہ پابندی اتوار کی صبح تک جاری رہے گی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ای میلز اور موبائل کے ذریعے بھیجے گئے کئی اشتعال انگیز پیغامات پکڑے ہیں۔

فرانس کے شہر لیون میں پولیس نے نوجوانوں کے گروہوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ مظاہرین نے پولیس پر کوڑے دان اور دوسری اشیاء پھینکیں۔

اے ایف پی کے مطابق شہر کے وسطی علاقے بیلیکور میں ہفتہ کی شام گڑ بڑ شروع ہوگئی اور پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کر لیا۔

دو ہفتہ قبل شروع ہونے والے فسادات میں پچھلے چند روز میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے۔ مرکزی شہر پیرس کسی حد تک اس سے محفوظ ہے، جبکہ مضافاتی علاقے اور ملک کے باقی حصے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

راتوں رات ملک میں 500 سے زائد گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ ان فسادات میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ 206 لوگ گرفتار ہوئے۔

یہ فسادات کل رات سے بھی زیادہ تھے جس میں تقریباً 400 گاڑیاں جلائی گئیں اور 168 لوگ گرفتار ہوئے۔

اس ہفتے کے آغاز میں حکومت نے فرانس اور دیگر 30 مقامات میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا تھا۔ چند علاقوں میں پولیس کو کرفیو لگانے اور جلسے جلوسوں پر پابندی لگانے کا اختیار بھی دیا گیا تھا تاکہ اس صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

پولیس کے سربراہ مائیکل گاؤڈن کا کہنا ہے کہ تشدد کا یہ خدشہ صرف افواہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشہور مقامات ایفل ٹاور اور چیمپس الائسس ممکنہ نشانے ہو سکتے تھے۔

فرانس سے بی بی سی کے نمائندے ڈیوڈ چیزن نے بتایا کہ آج شہر بھر میں اور ریل کے تمام سٹیشنوں پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی، اور آنے جانے والوں کو روک کر ان کی تلاشی لی جا رہی تھی۔

فرانس میں کرفیو
پولیس کی بھاری نفری ہر جگہ تعینات

جمعہ کی رات سب سے زیادہ فسادات پیرس کے جنوب مغرب میں ٹولؤز اور جنوب مشرقی علاقے لیون میں ہوئے۔ لیون اور اس کے مشرق میں دس قصبوں میں انتظامیہ نے رات دس بجے سے صبح چھ بجے تک کے لیے کرفیو لگا دیا۔

جنوبی شہر کارپینٹس میں جمعہ کے روز ایک مسجد پر نماز کے دوران پٹرول بم پھینکے گئے جس سے معمولی نقصان ہوا۔ تاہم یہ واضع نہیں ہو سکا کہ آیا ان حملوں کا تعلق ان فسادات سے تھا یا نہیں۔

یہ فسادات پیرس کے نواح میں دو نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے جو بجلی کے جھٹکے لگنے سے ہلاک ہوگئے تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس ان مرنے والوں کا تعاقب کر رہی تھی، جبکہ پولیس اسے غلط قرار دے رہی ہے۔

ان فسادات نے پسماندہ علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جہاں بے روزگاری زیادہ ہے اور یہاں کے رہنے والوں کو نسلی تعصب اور امتیازی سلوک کی شکایت ہے۔

فرانس کے صدر شیراک نے تسلیم کیا کہ فرانس کے ان مسائل سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ان مسائل کے جلد حل کی ضرورت پر زور دیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد