ایرانی صدر کے بیان کی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کے کئی ملکوں نے ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کے اس بیان کی مذمت کی ہے کہ اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جاۓ۔ صدر بش کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ بیان ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں تشویش کو اور بڑھا دیتا ہے۔ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی جو ایران سے مذاکرات کرتے آۓ ہیں انہوں نے بھی بیان کی مذمت کی ہے اور اسرائیل اور نے بھی۔ برطانیہ، فرانس، سپین اور کینیڈا ایرانی صدر کے بیان پر احتجاج کرنے کے لیے ایرانی سفارتکاروں کو طلب کر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ صدر احمدی نژاد نے یہ بات ایک کانفرنس میں کہی جس کا موضوع تھا جہان بدونِ صہیونیت یعنی صہیونیت سے نجات شدہ دنیا۔ بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار نے کہا ہے کہ ایرانی صدر کے حالیہ بیان کو مغربی حکومتیں اس بات کا ثبوت سمجھیں گی کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو ترک کرنے پر تیار نہیں ہے۔ | اسی بارے میں ’ایران سر نہیں جھکائےگا‘20 September, 2005 | آس پاس ’معاملہ سلامتی کونسل مت بھیجیں‘20 September, 2005 | آس پاس ایرانی موقف:یورپی یونین کی نرمی22 September, 2005 | آس پاس یو این قرارداد غیرقانونی: ایران 25 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||