BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 October, 2005, 07:15 GMT 12:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ولما نے مکسیکو میں تباہی مچا دی
سمندری طوفان ولما
خدشہ ہے کہ پیر کے دن یہ طوفان امریکی ریاست فلوریڈا سے ٹکرائے گا
میکسیکو میں حکام کا کہنا ہے کہ جزیرہ نما یکاتان سمندری طوفان ولما سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ پیشین گوئی کے مطابق اس علاقے پر سمندری طوفان کا اثر کم از کم ایک دن تک رہے گا۔

مقامی گورنر نے بتایا ہے کہ دو سو پچیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے ان عمارتوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے جو طوفان سے محفوظ تصور کی جاتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ طوفان کے کم رفتار سے آگے بڑھنے کی وجہ سے زیادہ تباہی ہو رہی ہے اور علاقے میں عمارتوں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئی ہیں، گھروں کی چھتیں اور درخت اکھڑ گئے ہیں اور شہر کی گلیاں اور سڑکیں زیرِ آب آگئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ ولما کی آنکھ (مرکزی حصہ) بہت بڑی ہے اور اس مطلب ہے کہ طوفان کے دوران سات سے آٹھ گھنٹے تک سکون ہو گا اور لوگوں کا خیال ہو گا کہ طوفان گزر گیا مگر ایسا ہو گا نہیں‘۔

ولما طوفان کا مرکزی حصہ اب کنکن کے علاقے کی جانب بڑھ رہا ہے اور خدشہ ہے کہ پیر کے دن یہ طوفان امریکی ریاست فلوریڈا سے ٹکرائے گا۔ کیوبا میں بھی تین لاکھ ستّر ہزارافراد کو طوفان کے راستے سے ہٹ کر محفوظ مقامات پر چلے جانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

فلوریڈا کےگورنر جیب بش نے ریاست میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے اگرچہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کے کام میں تاخیر کی جا رہی ہے کیونکہ اندازہ ہے کہ اپنی کم رفتار کی وجہ سےولما طوفان پیر سے قبل فلوریڈا نہیں پہنچ سکے گا۔

سنہ 2005 سمندری طوفانوں کے حساب سے سب سے تباہ کن سال رہا ہے۔ ولما اس سال کا بارہواں طوفان ہے اور اس سے قبل 1851 میں طوفانوں کا ریکارڈ رکھے جانے کے آغاز سے لے کر اب تک صرف 1969 میں ہی بارہ سمندری طوفان آئے تھے۔

ایک حساب سے ولما تاریخ کا سب سے طاقتور ترین طوفان ہے اور اس طوفان کے دوران بحرِ اوقیانوس میں سب سے کم بیرومٹیک دباؤ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس طوفان کی شدت اگرچہ درجہ پانچ سے کم ہو کر درجہ چار ہو چکی ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی شدت میں دوبارہ اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد