ریٹا درجۂ چہارم کا طوفان بن گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بحراوقیانوس میں اٹھنے والا سمندری طوفان فلوریڈا اور کیوبا کے ساحلی علاقوں میں تباہی پھیلانے کے بعد اب خلیج میکسیکو میں داخل ہو گیا اور درجہ چار کے طوفان کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ ابتدا میں سمندری طوفان ریٹا کو’ کیٹگری ٹو‘ یا درجہ دوئم کا طوفان قرار دیا جا رہا تھا۔ لیکن خلیج میکسیکو میں سمندر کی سطح پر درجہ حرارت کی وجہ سے اس طوفان میں تیزی آتی جا رہی ہے اور دو گھنٹوں کے دورانئے میں اس طوفان کو درجۂ چہارم میں رکھا گیا ہے۔ اس طوفان کی شدت کے بارے میں بتاتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ اس کے باعث اٹھنے والی آندھیوں کی رفتار 250 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور سمندر میں تیل کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کو بھی باہر نکالا جا رہا ہے۔ نیشل ہریکین سینٹر کے مطابق ریٹا کی شدت بھی کترینا کی شدت تک پہنچ سکتی ہے۔ بحر اوقیانوس میں طوفان کی ہواؤں کی رفتار ایک سو ساٹھ کلو میٹر فی گھنٹہ تھی جو کہ خلیچ میکسیکو میں سطح سمندر کے درجہ حرات کی وجہ سے دو سو پچاس کلو میٹر فی گھنٹہ ہو گئی ہے۔ قدرتی آفات اور ہنگامی حالات سے نبٹنے کے قومی ادارے فیڈرل ایمرجنسی مینیجمٹ ایجنسی کے سربراہ ڈیوڈ پالیسن نے کہا کہ طوفان ریٹا کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اور یہ انتہائی خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے۔ صدر بش کو بھی ریٹا کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا ہے ۔ ماہرین موسمیات کے مطابق ابھی تک طوفان کا زور ساحلی علاقوں کی طرف نہیں رہا۔ تاہم اس کی وجہ سے فلوریڈا کے جنوبی ساحلی اور کیوبا کےشمالی ساحلی علاقوں میں زبردست بتاہی پھیلی ہے۔ عمارتوں اور شہری سہولیات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔ طوفان اب ٹکساس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہزاروں افراد کو ساحلی علاقوں سے محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔ گلف آف میکسیکو میں تیل کی کپمنیوں نے اپنی تنصیابات کو بند کرنا شروع کر دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||