BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 September, 2005, 02:54 GMT 07:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اقوامِ متحدہ میں اصلاحات: مسودہ منظور
اصلاحات کے مسودے پر کئی ہفتوں تک گرما گرم بحث ہوتی رہی
کئی ہفتوں کی بحث و تکرار کے بعد اقوامِ متحدہ کے سفیروں نے نیویارک میں ہونے والے ایک اجلاس میں اقوامِ متحدہ میں اہم اصلاحات کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔

اس مسودے میں جو بدھ کو اقوامِ متحدہ کی عالمی کانفرنس میں پیش کیا جانا ہے اس بات کا عہد ہے کہ غربت کے خاتمے کے مقاصد حاصل کیے جائیں گے۔ تاہم اس مسودے سے کئی دوسرے نکات یا نکال دیئے گئے ہیں یا پھر ان کی تاثیر گھٹا دی گئی ہے۔

مسودے میں اس بات کا بھی عہد ہے کہ نسل کشی کے متاثرین کی حفاظت کی جائے گی۔ تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ مسودہ محض ایک سمجھوتہ ہے اور مسودہ کے اثر کو کم کر کے اس پر اتفاق کیا گیا ہے۔

اس مسودے میں تخفیفِ اسلحہ جیسے اہم مسائل کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔

اس شق پر تبصرہ کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ مسودے میں اسلحے کے عدم پھیلاؤ کو شامل نہ کیا جانا توہین آمیز ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایک سو اکانوے ارکان کی جنرل اسمبلی نے اس مسودے کی توثیق کر دی ہے۔

اقوامِ متحدہ کا ہونے والا اجلاس ساٹھواں اجلاس ہے جس میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے رہنما نیو یارک پہنچ رہے ہیں۔

کوفی عنان نے اس امید کا اظہار کیا کہ عالمی رہنما تخفیفِ اسلحہ سمیت دیگر مسائل کو عالمی کانفرنس میں اٹھائیں گے۔ ’ہمیں وہ سب کچھ نہیں ملا جو ہم چاہتے تھے۔‘

اس مسودے کے دیگر نزاعی مسائل میں حقوقِ انسانی کے ایک نئے ادارے کا قیام، دہشت گردی کی تعریف اور اقوامِ متحدہ کی انتظامی سطح کی اصلاحات شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر جون بولٹن کا کہنا تھا کہ انہیں مسودے پر اتفاق ہونے کی خوشی ہے اور یہ کہ انہیں یہ یقین نہیں تھا کہ اس مرحلے پر ہر بات پر اتفاق ہو جائے گا۔

جنرل اسمبلی کے چیئرمین جین پنگ نے سفیروں سے بات چیت کے بعد اصلاحات کا مسودہ پیش کیا جسے بتیس اہم ممالک کی طرف سے منظوری دی گئی۔

انسانی حقوق کے مسئلے پر یہ مسودہ صرف ایک نئی کونسل کے قیام کا ذکر کرتا ہے لیکن اس کی کوئی تفصیلات نہیں ہیں۔

تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے کی بات مسودے میں ضرور ہے لیکن اس شق کو کافی حد تک کمزور کر دیا گیا ہے۔

سفیروں نے امن کے لیے ایک کمیشن کے قیام پر اتفاق کیا تاکہ جنگ کے خاتمے کے بعد ریاستوں کی امداد کی جا سکے لیکن جب عام شہریوں کو جنگی جرائم یا نسل کشی کا خدشہ ہو تو کمیشن ایسے ممالک میں مداخلت کر سکے۔

برزایل کے سفیر کا کہنا تھا کہ منظور شدہ مسودے میں کوئی نئی بات نہیں ہے اور اس کی زبان کافی حد تک بدل کر رکھ دی گئی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ مسودہ کافی بہتر ہوتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد