اقوام متحدہ میں اصلاحات کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی غیر سرکاری تنظیم آکسفیم نے امریکہ ، انڈیا، برازیل اور روس سے اپیل کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں ان اصلاحات کی حمایت کریں جن کے تحت یہ ادارہ کسی ملک میں قتل عام کی صورت میں فوری اقدام کرسکے گا۔ آکسفیم ان ممالک پر الزام عائد کررہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں ایسی اصلاحات کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں جن کے تحت 1994 میں روانڈا میں ہونے والے قتل عام جیسے واقعات کے تدارک کے لئے اقدامت کئے جاسکے ہیں۔ آکسفیم کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کے بعد ایسے ممالک میں حکومتوں کی طرف سے کوئی اقدام نہ کرنے کی صورت میں عالمی برادری فوری ایکشن لے سکے گی۔ امریکہ ، انڈیا، برازیل اور روس کے علاوہ پاکستان ، ایران، کیوبا ، مصر ، شام اور الجیریا بھی ان مجوزہ اصلاحات کی مخالفت کررہے ہیں۔ ان اصلاحات کے مسودے میں اس سلسلے میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ ’یہ اقوام متحدہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو قتل عام ، جنگی جرائم ، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم سے بچانے کے لئے وقت پر فوری اقدام کرے۔‘ آکسفیم کا کہنا ہے کہ اگر دنیا میں مستقبل میں قتل عام جیسے واقعات کو روکنا ہے تو اس مجوزہ سمجھوتے میں انہی سخت الفاظ کو پرقرار رکھا جائے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے عالمی برادری ایسی صورت میں فوری اقدام لینے کے لئے مجبور ہوجائے گی۔ جو ممالک ان اصلاحات کی حمایت کررہے ہیں ان میں جنوبی افریقہ ، روانڈا ، کینیا ، چلی ، پیرو ، ارجینٹینا‘ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور ، کینیڈا اور یورپی یونین شامل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||