پہلے تبدیلیاں، پھر امداد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ایوانِ نمائندگان نے اقوامِ متحدہ کو بطور مالی معاونت دی جانے والی رقوم اس وقت تک نصف کرنے کی منظوری دے دی ہے جب تک کہ یہ عالمی ادارہ اپنے اندر قابلِ ذکر تبدیلیاں نہیں لاتا۔ اس بل کو سینیٹ کی منظوری حاصل کرنا ہوگی جس کے بعد صدر بش کے دستخطوں سے یہ قانون میں تبدیل ہو جائے گا۔ امریکی ایوانِ نمائندگان میں یہ بل ریپبلیکن نمائندے ہنری ہائیڈ نے پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم پہلے ہی بہت زیادہ مدد کر چکے ہیں اور اب وقت ہے کہ اس پر قابو پایا جائے‘۔ اس بل میں اقوامِ متحدہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ڈھانچے میں چھیالیس اصلاحات کرے۔ ان اصلاحات میں اخراجات میں کمی اور ایک معائنہ کار کمیٹی کا قیام کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ اس بل میں اقوامِ متحدہ سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انسانیت کے خلاف مظالم میں ملوث ممبر ممالک کی رکنیت منسوخ کرے اور ان پر پابندیاں بھی لگائے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو فی عنان نے کہا ہے کہ امریکہ کے اس اقدام سے ستمبر میں ہونے والا اقوامِ متحدہ کا اجلاس متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ’ کوفی عنان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس ادارے میں امریکہ کا کردار بہت اہم ہے لیکن وہ یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ رقوم کی کٹوتی تبدیلی کے لیے ایک بہتر عمل نہیں ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||