’افریقہ میں قحط کا خطرہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی امدادی ایجینسیوں نے خبردار کیا ہے کہ افریقہ کے کئی جنوبی ممالک میں خشک سالی کی وجہ سے قحط پڑسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے خوراک کے ادارے نے کہا ہے کہ اس سال خشکے کی وجہ سے 1992 سے لے کر اب تک سب سے بری فصل ہوئی ہے۔ عالمی امدادی ایجینسی آکسفیم نے کہا ہے کہ عالمی برادری اس سلسلے میں فوری اقدام نہ کر کے یہ ثابت کررہی ہے کہ اس نے نائیجر کے قحط سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ نائیجر اور اس کے قریبی ممالک میں عالمی میڈیا پر دردناک تصاویر اور خبروں کے بعد ایکشن لیا گیا تھا حالانکہ وہاں ایسے حالات پیدا ہونے کی پیش گوئی پہلے ہی کی جاچکی تھی۔ اب آکسفیم افریقہ کے جنوبی ممالک میں ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے تاکہ وہاں ممکنہ اموات کو کم کیا جاسکے۔ تنظیم کے مطابق ملاوی، زمبیا، زمبابوے اور موزمبیق میں ایک کروڑ افراد کو حوراک کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ سن دو ہزار دو میں خشکے کی وجہ سے انہی علاقوں میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی جبکہ اس سال وہاں اس وقت سے زیادہ بد تر حالات ہیں۔ آکسفیم نے ملاوی میں خوراک تقسیم کرنا شروع کر دید ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہیں مزید خوراک درکار ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||