سنّیوں نے دستاویز مسترد کر دی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے ایک سینیئر سنّی مذاکرات کار نے عراقی آئین کی تیاری کے سلسلے میں کرد اور شیعہ رہنماؤں کی جانب سے تیار کی جانے والی دستاویز مسترد کر دی ہے۔ انہوں نے اس دستاویز کو ملک کے لیے خطر ناک قرار دیا ہے۔صالح المطلاق نے تیل اور پانی کی تقسیم کے طریقوں پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ملک کے بٹوارے کا سبب بن سکتے ہیں۔ عراقی پارلیمنٹ کے سپیکر حجیم الحسنی نے کہا ہے سنّی یہ دستاویز تسلیم کریں یا نہ کریں اسے اتوار کو پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔ اس سے قبل اکثریتی شیعہ آبادی کے مذاکرات کاروں نے کہا تھا کہ ملک کے نئے آئین کے حتمی مسودے کی تیاری کے سلسلے ایک سمجھوتہ ہو گیا ہے اور آئین کا مسودہ دو روز میں پارلیمان کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ اقلیتی سنی آبادی کے رہنماؤں نے اس وقت بھی سمجھوتے کے طے پا جانے کی تردید کی تھی اور کہا ہے کہ رات گئے تک مذاکرات کے باوجود کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا۔ تنازعہ کا اہم ترین نکتہ وفاقی طرز حکومت کے بارے میں سنیوں کا اعتراض ہے۔ سنٰی عرب کرد اور شیعہ آبادی کو خودمختاری دینے کے مخالف ہیں کیونکہ ان کے خیال میں اس عمل سے ملک تقسیم ہو جائے گا۔ سنیوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اس عمل سےسے ان کو تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی پر فرق پڑے گا۔ یاد رہے کہ بغداد میں جمعہ کی شام کو آئین کا اعلان کرنے کے لیے بلائی گئی پریس کانفرنس ملتوی کر دی گئی تھی۔ عراقی وزیرِاعظم کے ترجمان لیتھ کبہ نے العربیہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’ یہ عمل اب اختتام کے قریب ہے۔ آخر میں ہم آئین کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیں گے‘۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اگر اس سلسلے میں کوئی سمجھوتہ ہو بھی گیا تو عراقی عوام اسے اکتوبر میں ہونے والے ریفرنڈم میں مسترد کر سکتے ہیں۔ عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زبیری نے بھی متنبہ کیا تھا کہ آئندہ کے دن اور مہینے بہت نازک ثابت ہو سکتے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مذاکرات کا جاری رہنا اس بات کا ثبوت ہے حکام کو اب بھی پیش رفت کی امید ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||