امریکی بحری جہاز پر میزائل حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکام کے مطابق اردن کی فوجی بندرگاہ عقبہ پر لنگرانداز امریکی بحری جہاز پر میزائل سے حملہ کیا گیا ہے۔ یہ میزائل امریکی جہاز یو ایس ایس اشلینڈ کو چھوتا ہوا گزرا اور قریب واقع گودام کی چھت پر جا گرا جس کے نتیجے میں وہاں موجود ایک اردنی سپاہی ہلاک اور دوسرا زخمی ہو گیا۔ اس حملہ کے کچھ دیر بعد ایک اور میزائل داغا گیا۔ اردن کی بری حدود سے داغا گیاتھا۔ اس میزائل کا نشانہ اسرائیل کے قریبی علاقے ایلیٹ کا ایک امریکہ کے پانچویں فلیٹ کے کمانڈر برسلاؤ کا کہنا ہے کہ اس راکٹ کا ہدف امریکی بیڑہ تھا اور اس سے بحری جہاز کا کوئی سپاہی زخمی نہیں ہوا۔ البتہ یہ میزائل بندرگاہ کے قریب کھڑے اردن کے سپاہی سے لگا جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ اس سپاہی کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک کر گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں یاتوشا نامی میزائل استعمال کیے گئے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق اردن کے ساحل پر امریکی جہاز یو ایس ایس اشلینڈ اور اس ہی کا ایک اور چھوٹا جہاز یوایس ایس کیرسارج گزشتہ دس روز سے لنگرانداز ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس حملے کے بعد یہ جہاز بندرگاہ کو چھوڑ دیں گے۔ اسرائیل کی پولیس کا کہنا ہے کہ دوسرا راکٹ ائرپورٹ کےنواح میں واقع ایک تفریحی مقام ریڈ سی پر گرا لیکن اس سے کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔ مقامی پولیس کمانڈر ایوی ازیلن نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ میزائل کمانڈر کا یہ بھی کہنا ہے کہ راکٹ ادرن کے نواح سے ہی داغا گیا تھا۔ عقبہ اور ایلیٹ ایک دوسرے سےپندرہ کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں اورتفریحی مقام ریڈ سی کی شمالی سرحد پر واقع ہیں۔ اسرائیل کے وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ان میزائل حملوں کا نشانہ اسرائیل اور اردن دونوں کی سرحدیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی اس بات کو یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ ان حملوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||