بحرین میں القاعدہ کے روابط | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بحرین نے کہا ہے کہ منگل کی صبح چھاپہ مار کر پر تشدد حملوں کی منصوبہ بندی کے شبے میں چھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ شیخ راشد الخلیفہ نے بحرین کے خبر ایجنسی کو بتایا ہے کہ سیکورٹی فورسز کئی علاقوں میں تلاشی کے بعد انھیں پکٹرنے میں کامیاب ہوئیں ہیں۔ بقول انکے یہ شدت پسند ملک و قوم کے لۓ خطرہ تھے۔ ان افراد کے وکیل عبداللہ ہاشم نے بتایا کہ انھیں جس وقت حراست میں لیا گیا وہ کسی قسم کی قابلِ گرفتاری سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھے۔ مسٹر ہاشم نے بتایا کہ منگل کو گرفتار کیے جانے والوں میں سے بسام العلی، بسام بعقوبہ، یاسر، عمر کمال، محی الدین اور علی خان کو گزشتہ برس بھی مبینہ طور پر القاعدہ سے روابط کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم بعد میں ناکافی شواہد کے بنا پر انھیں چھوڑ دیا گیا تھا۔ انھوں نے رائٹر خبر ایجنسی کو بتایا ہے کہ ابھی تک ان افراد پر باضابطہ الزامات تو عائد نہیں کے گۓ مگر حکام القاعدہ سے تعلق کا شبہ ظاہر کررہے ہیں۔ سترہ سالہ عمر کمال کے بھائی عبداللہ کمال کا کہنا ہے کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ ان کا اتنا کم عمر بھائی ملک کے لۓ کیسے خطرہ ہوسکتا ہے۔ گرفتار شدگان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اس انتہا پسند سنی تحریک ’سلافی‘ سے وابستہ ہیں جو اسامہ بن لادن اور سعودی عرب میں رائج ’وہابیت‘ سے قریب تصور کی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ کا پانچواں بحری بیڑا بحرین کے سمندر میں لنگر انداز رہتا ہے۔ جبکہ ملک کی چالیس لاکھ آبادی میں کثیر ملکی کارکنوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ سعودی عرب کے مقابلے میں بحرین خاصا آزاد خیال معاشرہ ہے۔ جہاں شراب، نائٹ کلبوں اور سینما گھروں پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||