’آپریشن شہادت میں شریک ہوں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ایرانی جریدے میں ایک اشتہار شائع ہوا ہے جس میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ آگے آئیں اور اسلام کے دشمنوں کے خلاف شہید ہو جائیں۔ یہ اشتہار ایک ایسے ادارے کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس کے سربراہ ایران کے قدامت پسند ترین اور بنیاد پرست رہنماؤں میں سے ایک آیت اللہ مصباح یزدی ہیں۔ اس اشتہار میں مردوں اور عورتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ شہادت کی چاہ رکھنے والوں کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ اشتہار میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس شمولیت کا مقصد اسلام اور اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمنوں کے خلاف تیاری کرنا ہے۔ اشتہار کے مطابق منتخب شدہ افراد کو ایران کے مختلف صوبوں میں تربیت دی جائے گی۔ اس گروہ میں شامل ہونے کے لیے صرف ایک تصویر، پیدائش کے سرٹیفیکیٹ اور ایک فارم پر کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ایرانیوں کو کسی خود کش مہم میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہو اگرچہ اسلام میں مذہب کے لیے شہادت اور خودکشی کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ ایران میں بہت سے لوگ پہلے ہی عراق میں مقاماتِ مقدسہ اور فلسطینیوں کے حقوق کی خاطر لڑنے کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں لیکن حقیقت میں خود کش حملوں کے لیے رجسٹر ہونے کا یہ دعوٰی محض کاغذی ہے اور اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ کوئی ایرانی خوکش بمبار بننے جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||