اسرائیلی احتجاجی مارچ منسوخ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہزاروں اسرائیلیوں کی طرف سے غزہ کی ایک بڑی یہودی آباد کاری کی طرف مارچ کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ مارچ کے منتظمین نے اسرائیل کے جنوب میں اکھٹے ہونے والے مظاہرین کو بتایا کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اس مسلے پر پولیس کے ساتھ تضاد کیا جائے جس نے اس مارچ پر پابندی عائد کردی تھی۔ لیکن منتظمین نے مارچ کو مکمل طور پر منسوخ نہیں کیاہے اور گش کتیف کی یہودی بستی تک چھوٹے چھوٹے گروپوں میں پہنچنے کا عزم کیا ہے۔ اس بڑے مارچ کا مقاصد اگلے مہینے سے غزہ سے یہودی بستیوں سے آبادکاروں کے انخلا میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔ جنوبی اسرائیل میں اس مارچ میں شرکت کے لئے اکھٹے ہونے والے تقریباً چھ ہزار مظاہرین میں کئی تو اب واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے ہیں لیکن ابھی تک کئی ہزار افراد ہویں موجود ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر افراد قدامت پسند یہودی ہیں۔ لیکن مارچ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اب اس مارچ کا مقصد احتجاج کے لئے زبردستی ان بستیوں میں جانا نہیں ہے۔ اسرائیل کے وزیراعظم ایرئیل شیرون کے غزہ کی یہودی بستیوں سے آبادکاروں کے انخلا کے منصوبے کے خلاف یہ اب تک ہونے والا سب سے بڑا احتجاج تھا۔ اسرائیل کی پارلیمینٹ نے بدھ کے روز غزہ کی اکیس یہودی بستیوں سے آبادکاروں کے انخلا کے منصوبے کو رکونے کی کوششوں کو ایک بار پھر مسترد کردیا ہے۔ اسرائیل نے 1967 میں غزہ ، غرب اردن اور مشرقی یروشلم پر قبضہ کرلیا تھا۔ ان علاقوں میں چالیس ہزار اسرائیلی آباد ہیں لیکن بین الاقوامی قانون کے تحت یہ قبضہ غیر قانونی ہے۔ تاہم اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||