امریکہ میں قدامت پرست جج کا تقرر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے جان رابرٹس کو سپریم کورٹ کا جج منتخب کیا ہے۔ جج سینڈرا اوکونر کی ریٹائر منٹ کے اعلان کے بعد سپریم کورٹ میں ایک جج کا عہدہ خالی ہو گیا تھا ۔ اگر سینیٹ میں جون رابرٹس کے نام کی توثیق ہو جاتی ہے تو وہ گیارہ برسوں میں سپریم کورٹ کے جج بننے والے پہلے شخص ہوں گے۔ جون رابرٹس قدامت پرست نظریے کے حامی کہلاتے ہیں۔ چونکہ سپریم کورٹ کے جج عمر بھر اپنے عہدے پر رہ سکتے ہیں اس لئے ماہرین کا خیال ہے کہ ان کی تقرری ہو نے کے بعد صدر بش کے قدامت پرست مسائل کی دیکھ بھال طویل عرصے تک ہو سکے گی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ نو ججوں والی سپریم کورٹ امریکہ کے اہم ترین اداروں میں سے ایک ہے۔ صدر بش نے مسٹر رابرٹس کے نام کا اعلان کرتے ہوئے انہیں اس اہم عہدے کے لئے مناسب شخصیت قرار دیا۔ صدر بش کا کہنا تھا کہ ان میں وہ تمام خوبیاں ہیں جو ایک جج میں ہونی چاہیں۔ بش نے کہا وہ چاہیں گے کہ اکتوبر میں شروع ہونے والے سیشن سے پہلے سینیٹ سے مسٹر رابرٹس کے انتخاب کو منظوری مل جائے۔ مسٹر رابرٹس صرف دو سال قبل ہی اپیل عدالت کے جج مقرر ہوئے تھے۔لیکن اس سے پہلے انہوں نے کئی سال تک وکالت کی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||