BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 June, 2005, 06:31 GMT 11:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ: تاریخی مقدمے کا فیصلہ
مائیکل شیورنر کی بیوہ ریٹا شیورنر
’یہ فیصلہ انصاف کی سمت پہلا اہم قدم ہے‘
اکتالیس سال قبل امریکی ریاست مِسیسپی میں انسانی حقوق کے جن کارکنوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا ان کے گھر والوں نے ملزم ایجگررے کلن کو قصوروار ٹہرائے جانے کے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

فلیڈلفیا نامی علاقے میں جیوری نے80 سال کے اس شخص کو انسانی حقوق کے تین کارکنوں کے قاتلوں کو اکھٹا کرنے یا بھرتی کرنے کا ذمہ دار ٹہرایا ہے۔

اس عدالتی فیصلے کے بارے میں فلیڈلفیا کے واحد سیاہ فام کانگریس رکن بینی تھامپسن کا کہنا تھا ’ آخرکار انصاف مل ہی گیا‘۔

اس واقعہ میں مارے جانے والوں میں سے ایک مائیکل شیورنر کی بیوہ نے کہا’ یہ فیصلہ انصاف کی سمت پہلا اہم قدم ہے‘۔تاہم انہوں نے سوال کیا کہ جیوری نے ملزم کو قاتل تسلیم کیوں نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مِسیسپی کی حکومت اس طرح کے تمام جرائم میں شریک تھی اور اس سلسلے میں مزید تحقیقات کی جانی چاہئے۔

ڈسٹرکٹ اٹارنی مارک ڈنکن نے 1988 میں بننے والی ایلن پارکر کی فلم ’مسسپی برننگ‘ کا حولہ دیتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں اس رنگ میں نہیں دیکھا جائے گا جس میں ہالی ووڈ کی فلم میں دکھایا گیا تھا۔اس فلم میں قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی جدو جہد دکھائی گئی تھی۔

مسسپی میں جیوری نے کلن کے خلاف قتل کے الزامات کو مسترد کر دیا لیکن ان تینوں کو مارنے کے لئے لوگوں کو بھرتی کرنے کا ذمہ دار ٹہرایا ہے۔

 24 سالہ مائیکل شیورنر ، 21 سالہ چینی، اور 20 سالہ اینڈی گڈ مین
41 سال تک انصاف کا انتظار

عدالت میں ملزم رے کلن ایک وہیل چیئر پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے منہ میں سانس لینے کی ٹیوب لگی ہوئی تھی۔

جیسے ہی انہیں عدالت سے باہر لیجایا گیاانہوں نے دو مائیکروفون اور ایک ٹی وی کیمرے کو ٹھوکر ماری۔

کلن کو اب 20 برس جیل کی قید کا سامنا ہے۔

انہوں نے 24 سالہ مائیکل شیورنر ، 21 سالہ چینی، اور 20 سالہ اینڈی گڈ مین کی ہلاکت میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

جس وقت عدالت میں یہ فیصلہ پڑھ کر سنایا جا رہا تھا تو ان کا چہرہ جذبات سے عاری تھا۔

یہ تینوں کارکن جن میں دو سفید فام اور ان کا ایک مقامی سیاہ فام ساتھی تھا اس وقت مارے گئے جب وہ سیاہ فام ووٹروں کے رجسٹریشن کے حق میں مہم چلا رہے تھے۔

کلن
فیصلہ سنائے جاتے وقت کلن کا چہرہ جذبات سے عاری تھا

پہلے تو انہیں ٹریفک کی خلاف ورزی کے جھوٹے الزام میں گرفتار کیا گیالیکن آدھی رات کو انہیں رہا کر دیا گیا جہاں کلان گروپ اور پولیس نے ان پر حملہ کر دیا ۔

ان کے ساتھ بری طرح مارپیٹ کی گئی اور ان کی لاشیں گولیوں سے چھلنی تھیں۔ انہیں وہیں دفن کر دیا گیا ۔

44 دن بعد ان کی لاشیں برامد کی گئیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد