ہالی وڈ کا بے نام بابا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بڑی بڑی کاروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی میدان جتنی کھلی فری ویز یا سڑکوں اور سینٹ برناڈینو کی خوبصورت پہاڑیوں کے پس منظر میں پام کے درختوں سے مزین گھروں کی لائنوں کے اس جنت نظیر ماحول کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ کیلی فورنیا میں کس کو پرواہ۔ کون جیتے کون ہارے، کس ملک نے نیوکلئیر اسلحہ حاصل کرلیا اور کیوں، جب تک امریکہ کی اس سب سے امیر ریاست کے آرام پسند لوگوں کی زندگی کو براہ راست دھچکا نہ لگے یہ لوگ اپنا ووٹ ڈال کر اور ماحول کے تحفظ کے لیے ری سائیکل مواد استعمال کرکے خوش ہیں۔ اور ہوں بھی کیوں نہ یہی تو وہ ریاست ہے جہاں سے ہالی وڈ کے بڑے بڑے سٹوڈیو پوری دنیا میں میٹھے خواب برآمد کرتے ہیں۔ اور پھر کچھ نشہ سمندر کا بھی ہے۔ لانگ بیچ ہو یا وینیس بحرالکاہل کے کنارے دھوپ سینکتے شاید سب کچھ پر امن اور ٹھیک ٹھاک ہی لگتا ہے۔ لیکن اسی پر امن اور فیل گڈ ماحول میں مقامی امریکی سیاحوں سے بھری ہوئی سڑک پر ہالی وڈ کے عین بیچ ایک اکیلا سپاہی کیلی فورنینز کو سیاسی عمل میں شامل ہونے اور اپنا کردار بھر پور طریقے سے ادا کرنے کا پیغام دینے کا بیڑا اٹھائے کھڑا ہے۔ ملیے ہالی وڈ کے بے نام بابا سے جو نام سے زیادہ کام میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تراسی سال کی عمر کے یہ بابا جی جو انیس سو بیالیس سے لے کر انیس سو چھیالیس تک دوسری جنگ عظیم میں لڑ چکے ہیں، اب پورے ہالی وڈ میں اکیلے ہی ایک بش مخالف تحریک چلا رہے ہیں۔ گلے میں عراق کی جنگ کے خلاف ایک بڑا احتجاجی پوسٹر لٹکائے یہ بابا جی ہالی وڈ کی مین سڑک پر رنگ برنگے اور پر جوش ماحول میں سراپا احتجاج بنے ایک عجب سا سماں پیش کرتے ہیں۔ ’بش کے برعکس مجھے معلوم ہے جنگ کیا ہوتی ہے میں نے دیکھی ہے۔سولہ سترہ سال کے لڑکوں لڑکیوں کو جنہوں نے ابھی اپنی زندگیاں شروع بھی نہیں کی ایک ایسی جنگ میں جھونک دیا ہے جو جھوٹ پر مبنی ہے۔ یہ سب دھوکا ہے بخدا ہمیں ان الیکشن میں بش سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔’ ہالی وڈ کے اس اکیلے بابا کو پورے امریکہ سے آئے ہوئے لوگ کوئی دیوانہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کررہے تھے بلکہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایک مجمع ارد گرد اکھٹا ہوجاتا اور کچھ لوگ اس بابا کو بھی ہالی وڈ کی کوئی نئی پیشکش سمجھ کر اس کی تصویریں بنانے لگتے۔ ہالی وڈ کے بابا جی کی ایک اکیلی جنگ مخالف تحریک بالکل بھی رائیگاں نہیں جارہی اور کچھ نہیں تو ان کو دیکھ کر ایسے لوگ جو اپنے خیالات دل ہی میں رکھتے ہیں ایک دم زبان پر لے آتے ہیں۔پہلے کچھ سیاہ فام خواتین نے وہیں کھڑے ہوکر اپنا غصہ ٹھنڈا کیا اور پھر پاس سے گزرنے والے ایک ریڈ انڈین نژاد نوجوان تنگ رے سو نے کے سیاسی خیالات نے یک دم کروٹ بدلی۔ ’ہمیں دھوکا دیا گیا ہے اور میڈیا ہمیں کچھ بھی نہیں بتاتا کہ عراق میں کیا ہورہا ہے۔ میری پسند تو رالف نیڈر ہے کیونکہ اگر بش صدر بن گئے تو یہ ملک بالکل تباہ ہوجائے گا اور کیری کے انتخاب سے ہوگا تو یہی لیکن ذرا کچھ زیادہ عرصے میں۔ اس ملک کے لوگوں کی طرف سے اور بھی احتجاج کی ضرورت ہے۔’ یہ ٹھیک ہے کہ میں اب تک جتنی بھی ریاستوں میں جارہا ہوں وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی حامی ہیں اور جنگ مخالف ہیں لیکن پھر بھی غیر مقبول ہی صیح آخر صدر بش اس ملک کے صدر ہیں ابھی تک ان کا کوئی حامی مجھے کیوں نہیں ملا۔ جب بھی یہ سوال میں نے کسی سے بھی پوچھا جواب یہی آیا کہ صدر بش کے حامی بڑے بڑے بنگلوں اور فیکٹریوں میں ہوتے ہیں اور سڑک چھاپ لوگوں کو نہیں ملتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||