مشی گن کے عرب بش مخالف ہوگئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں صدارتی الیکشن سے صرف دو ہفتے پہلے ایک ایسے وقت میں جب دونوں امیدواروں کے لئے ہر ریاست کا ہر ووٹ اہم بنتا جا رہا ہے، ریاست مشی گن میں ہونے والے رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق ریاست کی بڑی عرب آبادی ڈیموکریٹ امیدوار جان کیری کی حمایت کررہی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف امریکہ کے اس سروے کے مطابق مشی گن کی عرب آبادی کا اٹھاون فیصد سینیٹر کیری کی حمایت میں ہے جبکہ اکیس فیصد صدر بش کے ساتھ ہیں۔ سروے کے مطابق ریاست کی نو فیصد عرب آبادی آزاد امیدوار رالف نیڈر کی حمایت کررہی ہے، جن کے والدین کا تعلق لبنان سے ہے۔ مشی گن کی ریاست میں جہاں امریکی عربوں کی آبادی ڈھائی لاکھ سے تین لاکھ تک بتائی جاتی ہے، پچھلے الیکشن کے مقابلے میں یہ ایک بڑی تبدیلی ہے کیونکہ سن دو ہزار میں مشی گن کی عرب آبادی نے جارج بش اور ڈک چینی کی حمایت کی تھی۔ لیکن حالیہ سروے کے مطابق ووٹنگ کے رجحان میں ممکنہ تبدیلی اس طرح سے بھی بہت اہم ہوجاتی ہے کیونکہ مشی گن ان چند ریاستوں میں ایک ہے جو صدارتی الیکشن کے حتمی نتائج میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔ ریاست کے مقامی میڈیا اور مبصرین کے مطابق عرب امریکیوں کے ووٹنگ کے رجحان میں ممکنہ تبدیلی کی وجہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ میں مسلمانوں کی عمومی حالت اور عراق میں مسلسل غیر یقینی کی صورتحال ہے۔ سروے یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ آزاد امیدوار رالف نیڈر کو ریاست کی نو فیصد عرب آبادی کی حمایت حاصل ہے جبکہ ابھی تک بڑی کمپنیوں کے سخت مخالف اس امیدوار کےنام کو ریاست میں چھپنے والے بیلٹ پیپر میں شامل کرنے کا مسئلہ بھی حل نہیں ہوا۔ رالف نیڈر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بیلٹ پیپر پر باقی امیدواروں کے ساتھ ان کا نام چھپنے کے لیے قانوناً جتنے شہریوں کے دستخطوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ انہیں حاصل ہے جبکہ ان کے مخالفین کا دعوی اس کے برعکس ہے اور ابھی تک یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب اس کانٹے کے صدارتی مقابلے میں ہر ووٹ کی اہمیت ہے، مشی گن کے عرب ووٹروں کی حمایت سینیٹر کیری کے لیے بہت اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||