بش کوکیز اور کیری کیکس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشی گن کے ایک چھوٹے سے شہر سٹرلنگ ہائیٹس کی ایک مقامی بیکری کے مالکان کو بالکل بھی علم نہیں تھا کہ ان کی بیکری کا نام یکایک پوری ریاست بلکہ کئی دوسری ریاستوں میں ہر ایک کی زبان پر ہوگا۔ اس بیکری کا نام نہ صرف زبان زد عام ہوا ہے بلکہ اس کا ذکر اب صدارتی الیکشن کی کوریج کے دوران پرائم ٹائم میں لیا جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس نے بڑے صدارتی امیدواروں کے نام پر بسکٹ یا کوکیز اور کیک بنانے شروع کردیئے ہیں اور یہاں آنے والےگاہک اب اپنی سیاسی وابستگی کے مطابق یا تو بش کوکی خرید سکتے ہیں یا پھر کیری کیک کا مزہ لے سکتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بیکری کے مالکان نے آزاد امیدوار رالف نیڈر کو بھی نظر انداز نہیں کیا اور ان کے نام کے کوکیز بھی یہاں دستیاب ہیں۔ جب میں نے منینوز بیکری کی مالکہ نینسی منینو سے پوچھا کہ انہیں اس کا خیال کیسے آیا تو انہوں نے اپنی چھوٹی بیٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب اس کا کیا دھرا ہے۔ نینسی نے بتایا کہ ان کی بیٹی جیسیکا نے، جو بیکری میں بھی ہاتھ بٹاتی ہے، جب سکول سے مختلف صدارتی امیدواروں کے بارے میں معلومات لانا شروع کیں تو بیکری کے ڈرائیور سے لے کر نان بائی تک ہر ایک نے الیکشن پر بحث شروع کردی اور اس سے انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ اس سیاسی بحث کو کوکیز اور کیکس کی شکل میں پیش کیا جائے جس سے کاروبار بھی ہوگا اور لوگوں کی دلچسپی بھی قائم رہے گی۔ بیکری میں داخل ہوتے ہی سامنے والے شیلف میں رکھے گئے ان سیاسی کوکیز اور کیکس کا تعارف کرواتے ہوئے نینسی نے مجھے بتایا کہ بش کوکیز کو ان کے پارٹی کے رنگ کی مناسبت سے لال رکھا گیا ہے اور کیری کیکس کو نیلا جبکہ ظاہر ہے نیڈر کوکیز سبز رنگ کے ہیں۔ ان کوکیز یا کیکس کی فروخت کی بنیاد پر بیکری نے اپنا ایک پول یا رائے عامہ کا جائزہ بھی شروع کر رکھا ہے جس کے نتائج ہر شام کو بیکری میں لگے ایک بورڈ پر لکھ دئے جاتے ہیں۔ جس امیدوار کے جتنے کوکیز بکتے ہیں اس کے اتنے پوانئٹس۔ تو کیا اپنے امیدوار کے پوانئٹس بڑھانے کے لئے لوگ زیادہ کوکیز خرید رہے ہیں؟ یہ جاننے کے لئے میں جب اس اچھوتے خیال کی اصل خالق نینسی کی چھوٹی بیٹی جیسیکا کی طرف مڑا تو وہ اپنے آئیڈیے کی کامیابی پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔ بڑے پر جوش اندآز میں جیسیکا نے بتایا کہ یہاں آنے والے گاہک نہ صرف الیکشن کے بارے میں میں گرما گرم بحث کرتے ہیں بلکہ اگر کسی دوسرے گاہک کو ایک امیدوار کے نام کے چار کوکیز خریدتے دیکھ لیں تو وہ اپنے امیدوار کے پوانئٹس بڑھانے کے لئے فوراً چار کوکیز اور خرید لیتے ہیں۔ ابھی یہ سب بات جاری ہی تھی کہ میرے عراقی نژاد ڈرائیور سے رہا نہ گیا اور اس نے آگے بڑھ کر چار کیری کیکس خرید لئے۔ ابو نور نے باہر نکل کر مجھے بتایا کہ جب میں انٹرویو لینے میں مصروف تھا تو ایک خاتون نے بش کے نام کے ستر کوکیز خریدے جو ابو نور کے خیال میں اس نے صرف بش کے پوانئٹس بڑھانے کے لئے خریدے تھے اور اسی لئے اس نے چار کیری کیکس خریدے تاکہ وہ اپنے امیدوار کے لئے کچھ تو کرے۔ میں پہلے ہی بش کوکیز چکھ چکا تھا جب میں نے ابو نور کے اصرار پر کیری کیک کا ایک ٹکڑا چھکا تو مجھے لگا کہ دونوں میں فرق تو کوئی نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||