صدر ایمل لہود سے استعفیٰ کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان میں حزب اختلاف نے انحار اخبار کے ایک صحافی سمیر قصیر کے قتل کے بعد صدر ایمل لہود کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ اس قتل کا ذمہ دار ایمل لہود ہیں کیونکہ وہ لبنان میں سکیورٹی اور انٹیلیجنس اداروں کے سربراہ ہیں۔ لبنان میں لوگوں کا خیال ہے کہ شام اور اس کے حمائتی سابق وزیر اعظم رفیق حریری اور سمیر قصیر کے قتل میں ملوث ہیں جبکہ شام نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ جمعرات کے اس قتل کے بعد صدر ایمل لہود پر عوام کا غصہ اور بھی بڑھ گیا اور اب حزب اختلاف ان کا مستفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ لبنان میں فروری میں رفیق حریری کے قتل کے بعد اکا دکا تشدد کے واقعات سامنے آئے تھے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اہم شخصییت کا قتل ہوا ہو۔ رفیق حریری کے قتل کے بعد لبنان میں مظاہروں کی ایک لہر اٹھی تھی جس کے نتیجے میں شام پر لبنان سے فوجیں نکالنے کے لیے عالمی دباؤ بڑھا اور ایک طویل عرصے کے بعد شام نے اپنی فوجیں واپس بلا لیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||