BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 May, 2005, 15:21 GMT 20:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ سےواضح موقف کا مطالبہ
News image
محمود عباس نے فلسطین کے رہنما کی حیثیت سے اپنے پہلے دورۂ امریکہ پر واشنگٹن سے امن منصوبے کےعملدرآمد کے لیے واضح حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔

عباس کا کہنا تھا کہ وہ امن منصوبے کے عملدرآمد اور معاشی مدد کے لیے امریکہ سے ایک واضح سیاسی موقف چاہتے ہیں۔

توقع ہے کہ عباس جمعرات کو صدر جارج ڈبلیو بش سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔ جبکہ صدر بش نے عباس سے پہلے فلسطینی رہنما یاسر عرفات کو نظر انداز کیا تھا۔

امریکہ کی خارجہ امور کی سکریٹری کونڈی لیزا رائس سے بھی بات چیت کریں گے۔

عباس کی کانگریس کے سینیر رہنماؤں سے ملاقاتوں کا انتظام کیا گیا ہے، کانگریس نے اب تک فلسطین اتھارٹی کو براہِ راست پیسے دینے کی مخالفت کی ہے۔

مشرقِ وسطٰی امن منصوبے کو امریکہ، یورپین یونین، روس اور اقوامِ متحدہ کی حمایت تو حاصل ہے تا ہم پچھلے دو برسوں میں اس پر زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

امن منصوبہ دو سال میں تنازعہ ختم کرنے کا ایک مرحلہ وارنقشِ راہ ہے جس کا مقصد ایک پائیدار فلسطینی ریاست اور محفوظ اسرائیل کو ممکن بنانا ہے۔

فلسطینی چاہتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کے غزہ سٹرپ سے طے شدہ یکطرفہ انخلاً کو امن کے نقشِ راہ میں شامل کرنے پر انکی حمایت کرے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم ائیریل شیرون بھی آج کل واشنگٹن کا دورہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے عباس کی حمایت کا اعلان 400 فلسطینی قیدیوں کو رہا کر کے کیا ہے۔

فلسطینیوں نے اس حمایت کے اعلان کو ’پروپیگنذا‘ قرار دیا اور کہا کہ قیدیوں کی رہائی فروری میں طے پا چکی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد