محمود عباس: بھارتی رہنماؤں سےملاقاتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے بھارت میں مختلف رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔ دِلّی میں حکام کا کہنا ہے کہ محمود عباس کا دورہ بھارت کے لیے فلسطینیوں کی حمایت کا اظہار کرنے کا اہم موقع ہے۔ اس سے پہلے فلسطینی رہنما نے پاکستان کے دورے میں کہا تھا کہ وہ دنیا میں ایک اہم مقام رکھتا ہے اس لیے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعہ پرامن طور پر حل کرانے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کی مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی پالیسی کی تعریف کی اور کہا کہ انہیں پالیسیوں کی بدولت دنیا میں عزت و احترام حاصل ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان القدس الشریف کے دارالحکومت کے ساتھ فلسطین کی آزاد ریاست کے قیام کا خواہاں اور حامی ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے فلسطینی انتظامیہ کی سیاسی حمایت اور مدد جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔ پاکستان اور فلسطین کے صدور نے اس موقع پر اتفاق رائے سے کہا کہ اسلام ایک عظیم مذہب ہے اور اس کا دہشت گردی جیسی لعنت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ وہ بہتر حکمرانی اور دفاع و سلامتی کے شعبوں میں فلسطین کو تربیت اور تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ مہمان صدر محمود عباس نے بتایا کہ انہوں نے پاکستانی قیادت کو فلسطین کے دورے کی دعوت بھی دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بھارتی قیادت سے مذاکرات میں مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے علاوہ فلسطینی علاقوں میں جاری بھارتی ٹیلی مواصلاتی منصوبے بھی گفتگو کے اہم موضوعات ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||