مزاحمت: مغربی عراق کی طرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس کے خیال میں اب عراق میں مزاحمت کاروں کی سرگرمیوں کا مرکز ملک کے مغربی حصوں کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔ امریکی فوج کےمطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ برس فلوجہ شہر میں مزاحمت کاروں کے خلاف جو بڑی کارروائی کی گئی تھی اس کے بعد شدت پسند وہاں سے نکل کر عراق کے مغربی علاقوں کی طرف چلے گئے ہیں۔ ان دنوں امریکی فوجی مغربی عراق میں واقع صوبہ الانبار میں مزاحمت کاروں کے خلاف ایک بڑی کارروائی میں مصروف ہیں۔ یہ کارروائی اس جگہ ہو رہی ہے جہاں شام کی سرحد لگتی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اب تک اس کارروائی میں ایک سو کے قریب شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایک امریکی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ مزاحمت کاروں کے ساتھ فوجیوں کی جھڑپوں میں یہ بات سامنے آئی کہ عراق کے مغرب میں موجود شدت پسندوں کے پاس بہتر آلاتِ جنگ ہیں اور وہ ملک کے دیگر حصوں کے برعکس یہاں بہتر طور پر منظم ہیں۔ یہاں مسلح افراد نے صوبہ الانبار کے گورنر کو اغواء کر لیا ہے۔ ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ شدت پسند مطالبہ کر رہے ہیں کہ امریکی فوج قائم کے علاقے سے باہر نکل جائے۔ یہ علاقہ امریکی فوج کے خیال میں شدت پسندوں کو شام چلے جانے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ تاہم بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بھی خبریں ہیں کہ یہاں کے گورنر کو اس لیے اغواء کیا گیا کہ ان کا قبیلہ عراق میں القاعدہ تنظیم کے اہم سرغنہ ابو مصعب الزرقاوی کے طرفداروں کو پکڑے ہوئے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||