کرد،شیعہ ملیشیا مدد کر سکتی ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی صدر جلال طالبانی کا کہنا ہے کہ کرد اور شیعہ ملیشیا کی مدد سے مزاحمت کاروں کا فوری خاتمہ ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحادی افواج کی جانب سے عراقی افواج کی تربیت کی تکمیل کے انتظار سے اس ملیشیا کا استعمال زیادہ بہتر ہے۔ تاہم ان کہنا تھا کہ عراق کی عبوری حکومت اس تجویز کے حق میں نہیں ہے۔ جلال طالبانی نے جو خود بھی کرد ہیں بی بی سی کے نمائندے جم مائر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں اسلامی حکومت کے قیام کی کوئی بھی کوشش ملک کو تقسیم کر دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق کی شیعہ مذہبی جماعتیں اس بات پر متفق ہو گئی ہیں کہ عراقی قوانین کی تشکیل میں اسلام کے علاوہ دیگر ذرائع کو بھی استعمال کیا جائے گا۔ عراقی صدر کا کہنا تھا کہ وہ عراقی مزاحمت کاروں کو ہتھیار پھینک دینے کی صورت میں معافی دینے کے حق میں ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بعث پارٹی کے اراکین کو سرکاری اور انتظامی ملازمتیں حاصل کرنے کا حق ہے تاہم انہیں فوج میں ملازمتیں نہیں دینی چاہییں۔ جلال طالبانی کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اس قسم کے تمام اہم فیصلے صدر، کابینہ اور پارلیمان کے باہمی اتقاقِ رائے سے ہونے چاہییں۔ اس سوال کے جواب میں کہ عراقی فوجوں کو امریکی فوج کی جگہ لینے میں کتنا وقت لگے گا ان کا کہنا تھا کہ اگر نئی حکمتِ عملی اپنا لی جائے تو یہ تبادلہ فوراً بھی ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی اسّی ہزار نفوس پر مشتمل کرد ملیشیا سکیورٹی کے معاملات کے لیے اپنی خدمات پیش کر چکی ہے لیکن اس کی پیشکش کو رد کر دیا گیا تھا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ بدر بریگیڈ اور سپریم کونسل آف عراقی انقلاب کے ساتھ بھی پیش آیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||