سال بیلو نہیں رہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کےمشہور نوبل انعام یافتہ ناول نگار سال بیلو 89 سال کی عمر میں اپنے گھر بروکلین میں منگل کے دن انتقال کر گئے۔ ان کی موت کا اعلان ان کے وکیل والٹر پوزن نے کیا۔ سال بیلو کا شمار جنگ عظیم کے بعد کے عظیم دانشوروں میں ہوتا ہے۔ اپنے ناولوں میں انہوں نے ہیمنگوے اور ولیم فاکنر سے علیحدہ دانشور کردار پیش کیے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’میں جو دیکھتا ہوں اس سے تجاوز نہیں کر سکتا، دوسرے لفظوں میں میں اس تاریخ نویس کی مانند ہوں جو اُس خاص عہد کا پابند ہے جس کے بارے میں وہ لکھ رہا ہے‘۔ لیکن سال بیلو کی تاریخ نویسی ذاتی اور مخصوص نوعیت کی تھی۔ سال بیلو کا تصنیفی سفر تقریباً آدھی صدی پر محیط ہے۔ شاید یہ بھی ایک سبب ہے کہ وہ اپنے ہم عصر ناول نگاروں میں کافی نمایاں رہے۔ سال بیلو کی تخلیقات کے تنوع کو دیکھتے ہوئے 1976 میں انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ انہوں نے اپنے ناول ’آگی مارچ کی مہمات‘ (1953)، ’ہینڈرسن دی رین کنگ‘ ( 1959) اور ’ہرزوگ‘ (1964) کے ذریعے بڑے کرداروں کو جنم دیا اور ان کے ذریعے وسیع موضوعات اور تھیم پر لکھا۔ ان کی تخلیق کی سب سے نمایاں بات ان کے ناولوں کے کردار ہیں۔ جن میں ہرزوگ کو خاص مقام حاصل ہے۔ ہرزوگ ایک ایسا دانشور کردار ہے جسے بیلو سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ہرزوگ کے ذریعے بیلو نے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اس ’ہی مین‘ والے عہد میں ایک دانشور نامرد کی طرح ہے جو سوچتے رہنے کی علاوہ کچھ اور نہیں کر سکتا۔ بیلو کے بیشتر کردار دانشوروں کے اسی قبیلے سے ہیں۔ جن میں ایک خاص قسم کا مزاح بھی ہے۔
ناقدین کی ایک بڑی تعداد نے بیلو کے ناولوں کو مختلف پیرائے، بیانیہ اور مابعد جدیدیت کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے، لیکن ایڈورڈ سعید اور چامسکی جیسے قد آور ناقدوں اور دانشوروں نے بیلو کے فکشن اور غیر فکشن دونوں طرح کی تخلیق میں ان کے سیاسی نظریے کو کھول کر رکھ دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بیلو مشرق وسطی کے مسئلے پر کسی حد تک صیہونیت کے حامی اور علم بردار ہیں۔ ایک زمانے تک سال بیلو نے خود کو ’یہودی-امریکی ادیب‘ کے لیبل سے آزاد اور الگ رکھنے کی ناکام کوشش کی۔ تاہم یہ اب ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ان کے ناولوں میں یہودیت ایک عام بحث کا موضوع ہے۔ بیلو کے ہم عصر مالکیم بریڈبری کا خیال ہے کہ ’بیلو کی علمی، ادبی اور اخلاقی شہرت کا دارو مدار ان کے بڑے خیالات اور موضوعات پر ہے جسے انہوں نے آگی مارچ، ہینڈرسن، ہرزوگ اور ہمبولٹس جیسے کرداروں کے ذریعے پیش کیا، جو کہ اپنے شعور، خودی اور انسانی برتری کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ بیلو کی پیدائش 1915ء مانٹریال کےعلاقے کیوبک میں ہوئی۔ 1924 میں ان کا خاندان شکاگو منتقل ہو گیا۔سترہ سال کی عمر میں والدہ کا سایہ ان کے سر سے اٹھ گیا- 1933 میں بیلو نے شکاگو یونیورسٹی میں داخلہ لیا لیکن دو ھی سال میں دوسری جگہ نارتھ وسٹرن میں اس لیے چلے گیئے کہ یہ جگہ نسبتاً سستی تھی۔ وسکونسن یونیورسٹی میں گریجویشن ادھوری چھوڑ دی۔ نوبل انعام کے علاوہ انہیں ڈھیر سارے انعامات سے نوازا گیا۔ ان کی پہلی تصنیف ’ڈینجلنگ مین‘ ہے جو 1944 میں شائع ہوئی۔ ان کی آخری تصنیف ’ریولسٹائن‘ 2000 میں شائع ہوئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||