’ڈبے والے‘ شاہی شادی میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کے دو ’ڈبے والے‘ شہزادہ چارلس اور کمیلا پارکر بولس کی شادی کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ رگو ناتھ مجی اور سوپان مارے ممبئی کے ان پانچ ہزار لوگوں میں سے ہیں جو روایتی ٹفن میں دوپہر کا کھانا ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں۔ شہزادہ چارلس دو سال قبل بھارت میں ان ڈبے اٹھانے والوں سے ملے تھے۔ ان ڈبے والوں یا ٹفن اٹھانے والوں نے چند ہفتے پہلے پیسےاکٹھے کر کے شادی کے موقع پر شہزادہ کے لیے روایتی پگڑی اور کمیلا کے لیے ایک ساڑھی بھیجی تھی۔ شہزادہ چارلس نے دو ڈبے والوں کو شادی پر مدعو کیا ہے۔ رگو ناتھ کا جو ممبئی میں ڈبے والوں کی تنظیم کے سربراہ ہیں کہنا ہے کہ ’ہم بہت غریب لوگ ہیں کبھی اس طرح کی اعلیٰ دعوت میں شرکت کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ ہم ویزا کے لیے برطانیہ کے سفارت خانے جا رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ کچھ اور تحائف بھی لے جا رہےہیں۔ شہزادے چارلس اور کمیلا کی شادی پروگرام کے مطابق جمعہ کو ہونے والی تھی لیکن جب ویٹیکن نے پوپ جان پال کی تدفین کے پروگرام کا اعلان کیا تو شادی کی تقریب ملتوی کر دی گئی۔ ممبئی میں ڈبے والے دوپہر کا کھانا لے کر وقت پر لوگوں کے دفتروں اور کارخانوں میں پہنچاتے ہیں۔ ممبئی میں ٹفن لے جانے کی روایت اٹھارہ سو نوے میں برطانوی اور پارسی برادری نے شروع کی۔ ممبئی کے ڈبے والے ٹھیک جگہ اور صحیح وقت پر کھانے پہنچانے کے لیے مشہور ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||