عراق میں چوراسی مزاحمت کار ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی سکیورٹی افواج نے امریکی فوج کی مدد سے چوراسی مزاحمت کاروں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عراق کی سکیورٹی افواج نے جن کو امریکی فوج کی مدد حاصل تھی، شدید لڑائی کے بعد مزاحمت کاروں کے ایک تربیتی کیمپ پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس لڑائی میں چوراسی مزاحمت کاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ واقعہ بغداد کے شمال مغرب میں ایک سو ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر اس وقت پیش آیا جب ایک عراقی کمانڈو یونٹ نے مزاحمت کاروں کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا۔اس جھڑپ میں سات عراقی کمانڈو ہلاک ہو گئے۔ عراقی کمانڈوز نےسنّی اکثریتی صوبوں انبار اور صالح الدین کی سرحد پر مزاحمت کاروں کے تربیتی کیمپ پر چھاپہ مارا اور شدید مزاحمت کے بعد امریکی فوج کی برّی اور فضائی مدد طلب کر لی۔ امریکی فوج کے ترجمان نے بھی اس آپریشن کی تصدیق کی ہے۔ امریکی فوجی ترجمان میجر رچرڈ گولڈن برگ کا کہنا تھا کہ کیمپ کا کنٹرول اب عراقی افواج کے پاس ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مزاحمت کاروں میں متعدد غیر ملکی بھی شامل تھے اور کیمپ سے پروپیگنڈا مواد، دھماکہ خیز مواد اور ہتھیار برآمد کیے گئے ہیں۔ ادھر بغداد میں عینی شاہدین کے مطابق مزاحمت کاروں اور مقامی دکانداروں کے درمیان ایک جھڑپ میں تین افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسلح افراد نے راہگیروں پر فائر کھول دیا۔ بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ مقامی شہریوں نے مزاحمت کاروں کے خلاف کسی لڑائی میں حصہ لیا ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||