نیپال: ٹیلیفون لائنیں دوبارہ منقطع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں حکام نے جمہوریت کے حق میں ہونے والے ایک منظم مظاہرے کو ناکام بنانے کے لیے تمام ٹیلیفون لائنیں دوبارہ کاٹ دی ہیں۔ اسی طرح کا ایک واقعہ فروری کے پہلے ہفتے میں اس وقت ہوا تھا جب شاہ گئینندرا نے منتخب حکومت کا خاتمہ کر کے خود ملک کا تمام کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔ یہ تمام کام ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب نیپال میں ایک سرکاری چھٹی منائی جارہی ہے اور اس کو ناقابل یقین طور پر جمہوریت کا دن کہا جا رہا ہے۔ ہمیشہ کی طرح اِس دفعہ بھی اس موقع پر پورے دارالحکومت سے سکول کے بچوں سے بھری بسیں اور ثقافتی طائفے بادشاہ اور ملکہ کے لیے مختلف پروگرام پیش کریں گے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اِس دن کا نام جمہوریت کا دن رکھا گیا ہے۔ شاہ گئینندرا نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کے بارے میں غیر یقینی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انکے شاہانہ قبضے کی وجہ ملک کو درپیش باغیوں کے مسئلہ اوران کے بقول بدعنوان سیاست دانوں سے نمٹنا تھی۔ اس ہفتے کے شروع میں نیپالی کانگریس پارٹی کے ترجمان نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ جمعہ کے روز ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ایک پرامن جدوجہد شروع کریں۔ اس بیان کے فوراً بعد ترجمان کو زیِرحراست لے لیا گیا اور دوسرے رہنماؤں کو بھی گرفتار کیا گیا جن میں بچوں کے حقوق کے ایک خیراتی ادارے کے ایک سربراہ اور ایک ماہر تعلیم اور سابق سفارت کار بھی شامل ہیں۔ مظاہروں کے خطرے کے پیش نظر انتظامیہ نے ٹیلی فون لائنیں پھر معطل کردی ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً پورے دن بسیں اور دیگر سستی ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی لگی رہی۔ یہ بھی خبر گرم ہے کہ جمہوریت کے حق میں نعرے لگاتے تقریباً بیس مظاہرین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ نیپال کا حال ہی میں دورہ کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے الزام لگایا ہے کہ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑھیں گی کیونکہ وہ لوگ جو ماؤ باغیوں اور آرمی کے وسائل کو سامنے لانے کی کوشش کررہے ہیں انہیں مسلسل گرفتاریوں اور میڈیا سینسر شپ کا سامنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||