برطانیہ: تیس کلو پلوٹونیم غائب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ سے شائع ہونے والے ایک اخبار کے مطابق سیلافیلڈ میں قائم برطانیہ کی ایک ایٹمی انجینیئرنگ سائٹ سے تیس کلوگرام پلوٹونیم، جو کہ سات ایٹم بم بنانے کے لیے کافی ہے، غائب ہے۔ امریکی روزنامے ’دی ٹائمز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک آڈٹ رپورٹ میں، جو جمعرات کو جاری کی جانے والی ہے، تیس کلوگرام کے برابر اس پلوٹونیم کو سنہ 2004 میں ایسی مد میں شمار کیا گیا ہے کہ جس کہ بارے میں کچھ پتہ نہیں۔ برطانیہ کے ایٹمی ایندھن سے متعلق ادارہ اس خبر کی تصدیق نہیں کرئےگا تاہم یہ اعداد و شمار جمعرات کو شائع کرنے والا ہے۔ سیلافیلڈ کا پلانٹ ہر سال کئی ہزار ٹن تابکاری مادہ پراسس کرتا ہے۔ سائنسی امور سے متعلق بی بی سی کے نامہ نگار سو نیلسن نے کہا ہے کہ برٹش نیوکلیئر فیولز نامی کمپنی ایٹمی ایندھن کی گمشدگی سے لاحق پریشانی کو کم کرنے کی کوشش کرے گی اور غالباً یہ موقف اپنائے گی کہ لاپتا ہو جانے والا جوہری مواد ناپ تول میں ہونے والی غلطیوں کے معیار کے عین مطابق ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||