خود کش حملوں میں بیس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں عید کے روز دو خود کش بم حملوں میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ان دونوں دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت شیعہ مسلمانوں کی تھی۔ پہلا دھماکہ اس وقت ہوا جب شیعہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد عید کی نماز کے بعد مسجد سے باہر آ رہے تھے۔ایک خود کش حملہ آور نے کار کو دھماکہ سے آڑا دیا جس میں چودہ افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔ دوسرا دھماکہ بغداد کے جنوب میں ہوا جب ایک شیعہ خاندان میں شادی کی تقریب میں ایک ایمبولینس گاڑی میں دھماکہ ہوا جس سے کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ عراقی پولیس کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے شیعہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ عراق میں شیعہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شدت پسند ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ دھماکہ شدت پسند ابو مصعب الزرقاوی کے اس بیان کے بعد ہوا ہے جس میں انہوں نے شیعہ مسلمانوں کی یہ کہہ کر مذمت کی تھی کہ وہ امریکی فوجیوں کے ساتھ مل کر عراقیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ نمازِ سحر کے بعد ہونے والے اس دھماکے کے نتیجے میں مسجد کے باہر کھڑی کئی گاڑیاں جل گئیں۔ ایک ہفتے میں بغداد میں شیعہ مسلمانوں کی مسجد میں یہ دوسرا دھماکہ ہوا ہے۔ اس سے قبل بدھ کے روز بھی ایک شیعہ مسجد میں دھماکہ ہوا تھا لیکن اس میں انسانی جانوں کا ضیاع نہیں ہوا تھا۔ تیس جنوری کو عراق میں امریکی سرپرستی میں عام انتخابات ہو رہے ہیں لیکن ان سے قبل عراق میں شیعہ مسلمانوں پر دھماکوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||