کار بم دھماکے میں سترہ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی عراق میں کرکک کے مقام پر ایک کار بم دھماکے میں کم از کم سترہ افراد ہلاک اور بیس کے قریب زخمی ہو گئے۔ یہ دھماکہ کرکک میں ایک پولیس اکیڈمی کے باہر اس وقت ہوا جب دن کے اختتام پر لوگ ٹریننگ اکیڈمی سے باہر آ رہے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خود کش بمبار نے اکیڈمی کے نزدیک پہنچتے ہی اپنے آپ کو کار سمیت اڑا دیا۔ دھماکے سے وسیع پیمانے پر نقصان ہوا اور جب ایمبولینس گاڑیاں وہاں پہنچیں تو سات کاریں بھی وہاں جل کر راکھ ہو چکی تھیں۔ عراق میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عراق میں پولیس پر حملے ایک معمول بن چکے ہیں۔ کیونکہ مزاحمت کار یہ سمجھتے ہیں کہ پولیس میں شامل ہو کر یہ لوگ ملک دشمن بن گئے ہیں۔ اس سے پہلے امریکی فوج نے شمالی شہر موصل میں مزاحمت کاروں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا۔ لڑائی میں آٹھ افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہو گئے تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لڑائی میں اس وقت شدت آئی جب امریکی ہیلی کاپٹر موصل کی فضاؤں میں پرواز کر رہے تھے۔ دھماکوں اور مشین گن کی فائرنگ کے دوران ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو زمین پر اترنے پر مجبور کر دیا گیا۔ اس جہاز پر سوار عملے کے دو امریکی ارکان زخمی ہوگئے۔ ادھر جنوبی عراق میں حملہ آوروں نے بصرہ کے قریب تیل کی ایک پائپ لائن کو نذرِ آتش کر دیا ہے۔ دو روز پہلے کرکک میں تخریب کاری کے ایک واقعے میں شمالی عراق میں تیل سپلائی کرنے والی تیل کی پائپ لائن کو بھی آگ لگا دی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||