BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 January, 2005, 18:03 GMT 23:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جمہوریت مسلط نہیں کریں گے‘
صدر بش
تقریب کا خرچہ 40 ملین ڈالر بتایا جا رہا ہے
امریکی صدر جارج بش نے جمعرات کو دوسرے دورِ حکومت کے لیے کپٹل ہل، واشنگٹن پر غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کے درمیان اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

ہزاروں کی تعداد میں امریکی عوام نے سخت سردی میں حلف برداری کی اس تقریب میں شرکت کی جس میں تمام دنیا سے تعلق رکھنے والے سفارت کار اور امریکی سینیٹ کے ارکان بھی موجود تھے۔

صدر بش نے حلف اٹھانے کے بعد اپنی تقریر میں کہا کہ امریکہ میں آزادی اسی صورت میں قائم رہ سکتی ہے کہ دوسرے ملکوں میں آزادی کامیاب ہو۔

صدر بش نے کہا کہ جہموریت کی حمایت اور ظلم اور جبر کی مخالفت امریکہ کی پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنی طرز حکومت کسی پر مسلط نہیں کرے گا تاہم یہ دوسروں کو اپنے طریقے سے جمہوریت قائم کرنے میں مدد دے گا۔

صدر بش نے کہا کہامریکی عوام کی حفاظت ان کا اولین فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ظلم ختم کرنے کے لیے اپنا ا ثر و رسوخ استعمال کرئے گا۔

صدر بش نے مزید کہا کہ انسانی وقار اور عزت امریکی پالیسوں کا رہنما اصول ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بغیر انسانی حقوق کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔

صدر بش نے کہا کہ امریکہ ان لوگوں کو نظر انداز نہیں کر سکتا جو ظلم اور مایوس کےعالم میں جی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اس لیے مشکل ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں اور اب ان ذمہ داریوں سے منہ نہیں موڑ سکتا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں عراق کا ذکر نہیں کیا۔

صدر بش نے بائیبل کے ایک خاندانی نسخے پر حلف اٹھایا جس پر وہ خود بھی اور ان سے پہلے ان کے والد بھی حلف اٹھا چکے ہیں۔

صدر جارج بش کی تقریر کو ’خطابِ آزادی‘ کا عنوان دیا گیا تھا جس کا مقصد اندرون و بیرونِ ملک آزادی کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے جو تقریر کی اس کے اکیس مسودے لکھے اور گئے اور اس کے بعد آخری تقریر تیار ہوئی۔

صدر بش کی حلف برداری کی تقریب کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ یہ مہنگی ترین تقریب ہو گی اور اس تین روزہ تقریب پر 40 ملین ڈالر خرچہ آئے گا۔

News image
حلف برداری کے روز پورے واشنگٹن پر برف کی چادر بچھی ہے

منگل سے ہی ڈنر پارٹیاں اور آتش بازی شروع ہو چکی ہے اور نو سرکاری پارٹیاں بھی متوقع ہیں۔

حلف برداری کی تقریبات کا خرچہ انفرادی طور پر مخیر افراد اور کارپوریشنوں کے چندے سے پورا کیا جائے گا جبکہ واشنگٹن سٹی کو کہا گیا ہے کہ سکیورٹی کے 17 ملین ڈالر کا خرچہ وہ خود برداشت کرے۔

واشنگٹن میں کیپیٹل ہل اور وائٹ ہاؤس کا پورا علاقہ بند کر دیا گیا تھا۔

 بشجواریوں کا بش
بش ہی جیتیں گے، جواری جانتے تھے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد