 |  رمادی میں ایک زخمی کو طبی مدد کے لیے لے جایا جا رہا ہے |
عراق کے دارالحکومت بغداد کے جنوب میں واقع پولیس اکیڈمی کے باہر بدھ کے روز کار بم کے ایک دھماکے میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔ رمادی میں مزاحمت کاروں اور امریکی فوجیوں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم چار عراقی مارے گئے ہیں جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ بعقوبہ میں ایک اور خودکش حملے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ بغداد کے جنوب میں دھماکہ اس وقت ہوا جب بغداد سے نوے کلومیٹر دور اکیڈمی میں کیڈٹس کورس مکمل ہونے کی ایک تقریب میں شریک تھے۔ اس دھماکے کی خبر اس وقت پھیلی جب عراق کے عبوری وزیرِ اعظم ایاد علاوی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تشدد کی بڑھتی ہوئی لہر کے باوجود انتخابات کی تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ تاہم ایاد علاوی کا کہنا تھا کہ اگر اقوامِ متحدہ چاہے تو وہ ان انتخابات کی تاریخ تیس جنوری کی بجائے کوئی اور رکھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردوں اور قانون شکن عناصر کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ سیاسی عمل کو روک دیں۔‘ اس سے قبل عراق کی قومی سلامتی کے مشیر نے کہا تھا کہ اگر انتخابات مقررہ تاریخ پر نہ ہوئے تو عراق میں بہت خون خرابہ ہوگا۔ ادھر ایک واقع میں بغداد میں کار بم دھماکے میں دو افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ بم ایک پیٹرول سٹیشن کے پاس پھٹا۔ |