عورت، مردوں کے فٹبال کلب سے باہر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فٹبال کے عالمی ادارے فیفا نے میکسیکو کی فٹبال کی ایک شہرت یافتہ خاتون کھلاڑی کے مردوں کے فٹبال کلب میں کھیلنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ماریبل دومنیگیز نے اس ہفتے میکسیکو کے سیکنڈ ڈویژن کلب سیلیا کے ساتھ کھیلنے کا معاہدہ کیا تھا۔ اگر انہیں مردوں کے فٹبال کلب میں کھیلنے کی اجازت مل جاتی تو شمالی اور وسطی امریکہ کے کھیلوں کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہوتا۔ لیکن فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی نے اپنے فیصلے میں کہا ’مردوں اور عورتوں کو الگ الگ فٹبال کھیلنا چاہیئے۔‘ ماریبل دومنیگیز کی عمر چھبیس سال ہے اور انہوں نے خواتین کی قومی فٹبال ٹیم کی طرف سے کھیلتے ہوئے تینتالیس میچوں میں بیالیس گول کیے ہیں۔ فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی نے سوٹزلینڈ کے شہر زیورچ میں ماریبل دومنیگیز کے مردوں کے ساتھ فٹبال کھیلنے پر پابندی کا فیصلہ اختتامِ ہفتہ پر ایک اجلاس کے بعد کیا۔ ایک تحریری بیان میں فیفا نے زور دے کر کہا کہ مردوں اور عورتوں کے فٹبال میں تفریق رکھی جانی چاہیئے۔ ’یہ بات لیگ فٹبال کے قواعد میں درج ہے اور بین الاقوامی طور پر بھی ایسا ہوتا ہے کہ عورتوں اور مردوں کے مقابلے الگ الگ منعقد ہوتے ہیں۔ لہذا کھیل کے قواعد اور فیفا کے ضابطوں میں کسی استثناء کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘ سیلیا کلب نے کہا ہے کہ وہ فیفا کے فیصلے کی پابندی کرے گا۔ کلب نے یہ بھی کہا کہ ماریبل دومنیگیز کو کلب میں شرکت کی دعوت دینے کا مقصد کلب کی شہرت کرانا تھا۔ ماریبل ایتھنز کے اولمپک گیمز میں میکسیکو کی سب سے زیادہ سکور کرنے والی کھلاڑی تھیں۔ خود فیفا نے سن دو ہزار چار کے لیے دنیا بھر کی خاتون کھلاڑیوں کی جو درجہ بندی کی تھی اس میں ماریبل دومنیگیز پچیسویں نمبر پر ہیں۔ میکسیکو کی فٹبالر نے جنہیں میریگول بھی کہا جاتا ہے، ہفتے کے اوائل میں کہا تھا کہ جنوری کے وسط تک اپنے آپ کو میچ کے لیے تیار کرنے کے لیے وہ خصوصی تریبیت حاصل کریں گی۔ ان کا کہنا تھا ’میرے لیے مشکل کام شاید جسمانی طاقت میں مردوں کے برابر ہونا ہے۔ لیکن جہاں تک کھیل کی تکنیک، میری خواہش اور میری قوتِ ارادی کا تعلق ہے یہ سب چیزیں پہلے ہی سے مجھ میں ہیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||