BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 October, 2004, 06:47 GMT 11:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈھاکہ میں خواتین کا ’گول‘
خواتین ٹورنامنٹ میں فٹ بال کھیل رہی ہیں
اس ٹورنامنٹ میں آٹھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں
بنگلہ دیش کے پہلے خواتین فٹ بال ٹورنامنٹ کا دارالحکومت ڈھاکہ میں آغاز ہو گیا ہے۔ اس ٹورنامنٹ پر ملک کی کئی سخت گیر مذہبی سیاسی جماعتوں نے اعتراض کیا ہے۔

ٹورنامنٹ کا آغاز نہایت خاموشی سے ایک ایسے سٹیڈیم میں کیا گیا جہاں عمومًا فٹ بال نہیں کھیلی جاتی۔ اس کے علاوہ ٹورنامنٹ کے منتظمین نے کوئی پریس کانفرنس بھی نہیں کی۔ بنگلہ دیش میں کھیلوں کے کسی بھی بڑے مقابلے کے آغاز سے پہلے پریس کانفرنس کرنے کے روایت ہے۔ لیکن مذہبی جماعتوں کے اعتراضات کی وجہ سے اس ٹورنامنٹ کے منتظمین اسکی زیادہ پبلسٹی نہیں چاہتے۔

البتہ بنگلہ دیش کے وزیر کھیل نے اس ٹورنامنٹ کو خواتین کے لیے ایک تاریخی واقعہ قرار دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس ٹورنامنٹ کے کامیاب آغاز سے ملک میں دیگر کھیلوں میں بھی خواتین کے لیے اسی طرح کے مقابلوں کی راہ کھل جائے گی۔

دوسری طرف بنگلہ دیش کی جمعیتِ علماء اسلامی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خواتین کی فٹ بال ’غیر مہذب‘ ہے اور اگر اس ٹورنامنٹ کو ختم نہ کیا گیا تو اُن کی تنظیم اس کے خلاف مظاہرے کرے گی۔

بنگلہ دیش کی سخت گیر اسلامی جماعتیں خواتین کے لیے کسی بھی ایسے کھیل کے خلاف ہیں جو باہر کھیلا جاتا ہے۔ لیکن بنگلہ دیش میں خواتین اکثر والی بال، ہینڈ بال، تیراکی، جوڈو اور کراٹے جیسے کھیلوں میں حصّہ لیتی ہیں۔

اس ٹورنامنٹ میں آٹھ ٹیمیں حصّہ لے رہی ہیں۔ اسکا پہلا راؤنڈ اتوار کو ختم ہوگا۔ فائنل اگلے ہفتے متوقع ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد