ڈھاکہ میں خواتین کا ’گول‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے پہلے خواتین فٹ بال ٹورنامنٹ کا دارالحکومت ڈھاکہ میں آغاز ہو گیا ہے۔ اس ٹورنامنٹ پر ملک کی کئی سخت گیر مذہبی سیاسی جماعتوں نے اعتراض کیا ہے۔ ٹورنامنٹ کا آغاز نہایت خاموشی سے ایک ایسے سٹیڈیم میں کیا گیا جہاں عمومًا فٹ بال نہیں کھیلی جاتی۔ اس کے علاوہ ٹورنامنٹ کے منتظمین نے کوئی پریس کانفرنس بھی نہیں کی۔ بنگلہ دیش میں کھیلوں کے کسی بھی بڑے مقابلے کے آغاز سے پہلے پریس کانفرنس کرنے کے روایت ہے۔ لیکن مذہبی جماعتوں کے اعتراضات کی وجہ سے اس ٹورنامنٹ کے منتظمین اسکی زیادہ پبلسٹی نہیں چاہتے۔ البتہ بنگلہ دیش کے وزیر کھیل نے اس ٹورنامنٹ کو خواتین کے لیے ایک تاریخی واقعہ قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس ٹورنامنٹ کے کامیاب آغاز سے ملک میں دیگر کھیلوں میں بھی خواتین کے لیے اسی طرح کے مقابلوں کی راہ کھل جائے گی۔ دوسری طرف بنگلہ دیش کی جمعیتِ علماء اسلامی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خواتین کی فٹ بال ’غیر مہذب‘ ہے اور اگر اس ٹورنامنٹ کو ختم نہ کیا گیا تو اُن کی تنظیم اس کے خلاف مظاہرے کرے گی۔ بنگلہ دیش کی سخت گیر اسلامی جماعتیں خواتین کے لیے کسی بھی ایسے کھیل کے خلاف ہیں جو باہر کھیلا جاتا ہے۔ لیکن بنگلہ دیش میں خواتین اکثر والی بال، ہینڈ بال، تیراکی، جوڈو اور کراٹے جیسے کھیلوں میں حصّہ لیتی ہیں۔ اس ٹورنامنٹ میں آٹھ ٹیمیں حصّہ لے رہی ہیں۔ اسکا پہلا راؤنڈ اتوار کو ختم ہوگا۔ فائنل اگلے ہفتے متوقع ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||