BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 August, 2004, 23:54 GMT 04:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی فٹبالروں کا بُش پر غصہ
عراق کے صالح صدیر
صالح صدیر چاہتے ہیں کہ امریکہ عراق سے واپس چلا جائے
اولمپک کے پہلے مرحلے میں اچھے کھیل کا مظاہرہ کرنے والی عراق کی فٹبال ٹیم کے کھلاڑیوں نے امریکہ کے صدر جارج بُش کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ٹیم کے کھلاڑی صالح صدیر نے کہا کہ ان کی ٹیم کو اپنا نام صدر بُش کی انتخابی مہم میں استعمال کیا جانا اچھا نہیں لگا۔

ٹیم کے ایک کھلاڑی نے صدر بُش پر ”بہت سے جرائم” کرنے کا الزام لگایا۔ ایک اور کھلاڑی کا کہنا تھا کہ اگر وہ ٹیم کا حصہ نہ ہوتے تو عراق میں امریکی فوج کے خلاف لڑائی میں شریک ہوتے۔

عراقی ٹیم کے کھلاڑیوں نے ان خیالات کا اظہار امریکہ میں کھیلوں کے ایک جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

صالح صدیر نے کہا کہ انہیں اس اشتہار پر اعتراض ہے جس میں عراق اور افغانستان کے جھنڈے دکھائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ اس بار اولمپک میں دو مزید آزاد ریاستیں حصہ لے رہی ہیں اور دو دہشت گرد حکومتیں موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عراق کی ٹیم نہیں چاہتی کہ ان کو ”انتخابی مہم میں استعمال کیا جائے”۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کو شہرت کے لیے کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

صدیر نے عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا ”ہم عراق میں ان کی موجودگی نہیں چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ چلے جائیں”۔

ٹیم کے اور ایک اہم رکن احمد مناجد نے کہا کہ ”صدر بُش اتنے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد اپنے خدا کا کیسے سامنا کریں گے؟ انہوں نے بہت سے جرائم کیے ہیں”۔

فلوجہ کے رہنے والے مناجد نے کہا کہ اگر وہ فٹبال کی ٹیم کا حصہ نہ ہوتے تو یقیناً مزاحمت کاروں کے ساتھ لڑائی میں شریک ہوتے۔

انہوں نے کہا اگر کوئی امریکہ پر حملہ کرے تو کیا مزاحمت کرنے والے امریکی دہشت گرد ہو جائیں گے۔

مناجد نے کہا کہ فلوجہ کی پوری آبادی پر دہشت گردی کا لیبل لگا دیا گیا ہے جو کہ غلط ہے۔

ٹیم کے کھلاڑیوں نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ سابق صدر صدام حسین کے بیٹے ادے حسین اولمپک کمیٹی کے سربراہ نہیں ہیں۔

ٹیم کے کوچ نے عدنان حماد نے کہا کہ عراقیوں کو امریکیوں سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی شکایت امریکہ کی عراق میں کارروائیوں کے خلاف ہے جن سے تباہی ہو رہی ہے۔

صدر بُش کے ترجمان نے اشتہارات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ صدر بُش کتنے پُر امید ہیں اور کس طرح جمہوریت کی دہشت گردی پر فتح ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد