| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
فٹ بال کھیلتے اور بیئر پیتے ہاتھی
بھارت میں جانوروں کے ایک سالانہ میلے میں سو ہاتھیوں نے فٹ بال کے ایک نمائشی میچ میں حصہ لیا ہے۔ بھارت کی مشرقی ریاست آسام میں ہونے والے اس تین روزہ میلے میں ہونے والے ہاتھیوں کے میچ کو تقریباً دس ہزار لوگوں نے دیکھا۔ آسام اور قرب وجوار کے علاقوں میں گزشتہ دو سالوں میں ایک سو پچاس افراد ہاتھیوں کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان حادثات پر مشتعل ہو کر مقامی لوگوں نے دو سے زائد ہاتھیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ شمال مشرقی ریاست میں پانچ ہزار سے زیادہ ہاتھی آزاد گھومتے رہتے ہیں جس میں ڈیڑھ سو ہاتھی اس میلے میں شرکت کے لیے لائے گئے تھے۔ ایک صوبائی وزیر نے کہا کہ ان ہاتھوں کے فٹ بال میچ سے مقامی لوگوں میں ہاتھیوں کو بچانے کی ضرورت کا احساس پیدا ہو گا۔ آسام میں ہر سال اس میلے کا انعقاد مقامی سیاحت کے فروغ اور مقامی لوگوں میں جانوروں کی حفاظت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا کہ جنگلوں میں واقع ہوتی ہوئی کمی کی وجہ سے ہاتھیوں کے انسانوں پر حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ان جنگلی ہاتھیوں کے منہ کو مقامی طور پر چاولوں سے تیار کی جانے والی بیئر بھی لگ گئی ہے اور جب کبھی بھی وہ بیئر پی کر مست ہو جاتے ہیں انسانوں پر حملہ کر دیتے ہیں۔ گزشتہ سال جنوری میں چار ہاتھی بیئر پی کر بجلی کے تاروں میں الجھ کر ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||