اسرائیل کا ’جذبہ خیر سگالی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل خصوصی وزارتی کمیٹی سے منظوری کے بعد اب جلد ہی جیلوں میں قید ایک سو ستر فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دے گا۔ فلسطینی قیدیوں کی رہائی مصر کی جانب سے ماہِ رواں کے آغاز میں ایک اسرائیلی جاسوس کی رہائی کا جواب ہے، یہ رہائیاں اسرائیل اور مصری صدر حسنی مبارک کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں عمل میں آئی ہیں۔ اسرائیلی وزیرِاعظم ایرئیل شیرون نے اس فیصلے کو مصر کے لیے ’خیر سگالی کا جذبہ‘ اور ’دوستی کی نشانی‘ قرار دیا ہے۔ اسرائیلی کابینہ کے مطابق یہ قدم مصر کے صدر حسنی مبارک اور نئی فلسطینی قیادت کے لیے اگلے ماہ ہونے والے فلسطینی انتخابات سے قبل جذبہ خیر سگالی کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ ایک خصوصی وزارتی کمیٹی نے رہائی پانے والے قیدیوں کی فہرست تیار کی ہے۔ رہائی پانے والوں میں وہ افراد بھی شامل نہیں جو اسرائیلیوں پر حملوں میں ملوث ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے ترجمان رنان گسن نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یہ فیصلہ ’ امن کے عمل اور علاقے کے حالات میں بہتری لانے کے لیے ہماری کوششوں کا مظہر ہے‘۔ اسرائیلی ریڈیو کا کہنا ہے کہ رہا ہونے والوں میں الفتح کے ایک سو بیس اراکین اور اسرائیل میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے پچاس افراد شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||