فلسطینی سکیورٹی یونٹ کا خاتمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی انتظامیہ نے غزہ میں سکیورٹی کی اس یونٹ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جسے انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات کی وجہ سے ’موت کا دستہ‘ کہا جانے لگا ہے۔ محکمۂ سکیورٹی اور تحفظ کے نام سے جانے جانیوالے اس یونٹ کے ستر اراکین کو سکیورٹی کے دیگر شعبوں میں ضم کردیا جائے گا۔ سکیورٹی کے اہلکار راشد ابو شباک نے کہا کہ اس یونٹ کی کارروائیوں کے بارے میں ’شک و شبہات‘ ظاہر کیےجارہے تھے۔ محکمۂ سکیورٹی اور تحفظ کا قیام ایک سال قبل اس لئے عمل میں آیا تھا کہ وہ فلسطینی انتظامیہ پر دوسرے دھڑوں کی جانب سے ہونے والے حملوں کو روک سکے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس یونٹ کے کچھ اراکین جرائم کے واقعات میں ملوث ہوگئے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اسلحہ سمگل کیا، زمین پر قبضہ کرلیا اور عام لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوششیں بھی کیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فلسطینی اصلاح کار اور امریکی اور اسرائیلی اہلکار عرصے سے فلسطینی سکیورٹی انتظامیہ میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ دریں اثناء فلسطین کی عبوری انتظامیہ کے اہلکار مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچے ہیں جہاں وہ صدر حسنی مبارک سے جنوری کے فلسطینی انتخابات کے بارے میں بات کریں گے۔ راشد ابو شباک نے، جو فتح تحریک میں ایک اہلکار ہیں، یہ بھی کہا ہے کہ الاقصیٰ بریگیڈ سمیت تمام ملیشیا کو بھی سکیورٹی نظام میں ضم کردیا جائے گا کیونکہ ایک مرکزی قیادت کی ضرورت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||