محمود عباس کی نامزدگی کااعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی تنظیم الفتح نے جنوری کے صدارتی انتخاب کے لیے فلسطینی اتھارٹی کے سابق وزیرِ اعظم محمود عباس کو اپنا امیدوار قرار دے دیا ہے۔ پی ایل او کے چیئرمین یاسر عرفات کے انتقال کے بعد محمود عباس پہلے ہی تنظیم کی قیادت سنبھال چکے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اب محمود عباس ہی فلسطینی اتھارٹی کے صدر منتخب ہوں گے۔ تاہم یہ اشارے بھی مل رہے ہیں کہ محمود عباس کے مقابلے میں مروان برگوتی انتخاب لڑیں گے۔ وہ آجکل اسرائیلی جیل میں ہیں۔ انہیں دہشت گردی کے جرم میں پانچ مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اگر اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ مروان برگوتی انتخاب لڑ رہے ہیں تو پھر وہ آزادانہ طور پر انتخابی عمل میں حصہ لیں گے اور خطرہ ہے کہ اس سے الفتح تنظیم میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ لیکن فلسطینی علاقوں میں برگوتی کو بیشتر لوگ ایک ایسا ہیرو سمجھتے ہیں جس نے اسرائیل قبضے کے خلاف جنگ لڑی ہے ۔ لوگ ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کی شخصیت پر کشش اور پرعزم ہے اور ماضی میں یہ بات کہی جاتی رہی ہے کہ وہ یاسر عرفات کے جانشین ہوں گے۔ محمود عباس کے نام کی منظوری کا اعلان جمعرات کی رات غربِ اردن کے شہر رملہ میں الفتح تنظیم کی انقلابی کونسل کے ایک اجلاس کے بعد ہوا۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق فلسطینی اہلکار طیب عبدل کا کہنا تھا ’اب محمود عباس فتح تحریک کے واحد امیدوار ہیں۔‘ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ محمود عباس کافی حد تک اسی قسم کے رہنما ہیں جیسا اسرائیل اور مغرب چاہتے ہیں۔ وہ معتدل ہیں اور انہوں نے اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کی مخالفت کی تھی۔ تاہم ان کی جڑیں لوگوں میں نہیں ہیں۔ اگر برگوتی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ بھی انتخاب لڑیں گے تو وہ محمود عباس کے لیے سخت قسم کا چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||