مصر سےاسرائیلی ’جاسوس‘ رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر نے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے تحت اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے والے ایک شخص کو رہا کر دیا ہے۔ مصر میں رہا ہونے والا شخص اعظم اعظم نامی ایک اسرائیلی عرب ہے جس کو جاسوسی کے جرم میں انیس سو ستانوے میں مصر میں قید کیا گیا تھا۔ یہ کیس دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا سبب رہا ہے۔ اعظم جو، اسرائیل میں ٹیکسٹائل کی صنعت میں کام کرتا تھا، مبینہ طور پر اسرائیل کی انٹیلی جینس ایجینسی کو مصر کے صنعتی شہروں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے خواتین کے انڈر وئیر پر مصر سے معلومات خفیہ سیاہی سے لکھ کر اسرائیل کو فراہم کیں۔ آج اس قیدی کی رہائی کے وقت اسرائیل نے ان چھ مصری طُلبا کو رہا کر دیا جن کواگست میں اسرائئلی فوجیوں کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں پکڑا گیا تھا۔ اسرائیلیوں کا کہنا تھا کہ ان افراد نے غیر قانونی طور پر سرحد پار کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق قیدیوں کا یہ تبادلہ ایک سال سے زیادہ چلنے والے مذاکرات کے بعد عمل میں آیا ہے۔ یہ رہائی ایک ایسے وقت پر عمل میں آئی ہے جب جرمنی کے وزیر خارجہ جوشکا فشر اسرائیل کے وزیراعظم ائیریل شیرون سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||