میت رملہ روانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عالمی و عرب رہنماؤں اور عمائدین کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ جنازے کے بعد میت ایک طیارے میں جزیرہ نما سینا لے جائی جا رہی ہے جہاں سے تدفین کے لیے اسے ایک فوجی ہیلی کاپٹر میں رملہ لے جایا جائے گا۔ قاہرہ میں عام لوگوں کو جنازہ میں شرکت کی اجازت نہیں گئی اور جنازگاہ کی طرف جانے والے راستے بند کر دیئے گئے تھے۔ قاہرہ میں بتایا گیا تھا کہ مرحوم فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی نمازِ جنازہ اور فوجی پریڈ کے لیے کم از کم بارہ سربراہانِ مملکت، متعدد وزراء اعظم اور وزرائے خارجہ قاہرہ پہنچے تھے۔ یاسر عرفات کے جنازے میں مصر کے صدر حُسنی مبارک کے علاوہ اردن کے شاہ عبداللہ، شام کے صدر باشر الاسد اور کئی دوسرے ممالک کے صدور اور وزراء اعظم شریک تھے۔ ان میں جنوبی افریقہ کے صدر تھابو امبیکی، بنگلہ دیش کے صدر یاج الدین احمد، تیونس کے صدر زین العابدین بن علی اور انڈونیشیا کے صدر شامل ہیں۔ سویڈن ، پاکستان، سری لنکا ان کی نمائندگی ان کے وزرائے اعظم کر رہے ہیں۔ برطانیہ، ترکی، بھارت، جرمنی اور فرانس ان ممالک میں شامل ہیں جن کے وزرائے خارجہ جنازے میں شریک تھے جبکہ امریکہ نے اپنے ایک نائب وزیر خارجہ ولیم برنز کو اس موقع پر بھیجا۔ یورپی یونین کی طرف سے خارجہ امور کے مندوب خاویر سولانا جنازے کے لیے قاہرہ پہنچے تھے۔ عرفات کی میت کے ساتھ ان کی اہلیہ سوہا عرفات اور ان کی بارہ سالہ بھی قاہرہ میں موجود تھیں۔ فرانس سے میت کو لانے والا طیارہ قاہرہ کے اڈے پر پہنچا تو سب سے پہلے طیارے سوہا عرفات باہر آئیں۔ اشکبار سوہا عرفات کا خیر مقدم کرنے کے لیے مصر کی خاتونِ اول سوزانہ مبارک ہوائی اڈے پر موجود تھیں۔ طیارے سے میت کو گارڈ آف آنر کے ارکان نے اتار کر ایک گاڑی میں رکھا گیا جو اسے ایک قافلے کی شکل میں اس فوجی کلب تک لے گئی جہاں مرحوم رہنما کی نماز ادا کی گئی۔
یہ کلب ہوائی اڈے کے قریب ہی واقع ہے اور یہ ایک بڑے فوجی احاطے پر مشتمل جس میں ایک ہسپتال ایک مسجد اور ایک سماجی کلب موجود ہیں۔ میت کو رات بھر کے لیے ہسپتال میں رکھا گیا۔ نمازِ جنازہ کا انتظام پہلے ہوائی اڈے کے قریب ہی کیا گیا تھا لیکن بعد میں انتظامی اور حفاظتی تقاضوں کے پیش نظر اسے تبدل کر دیا گیا۔ دوسری طرف رملہ میں رات بھر ان کی آخری آرام گاہ کی تیاری کا کام جاری رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||