یاسر عرفات کی حالت مزید پیچیدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی رہنما کی صحت کے بارے میں افواہوں کے درمیان ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے اعلان کیا ہے کہ ’یاسر عرفات کی حالت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے لیکن وہ حیات ہیں اور ان کا انتقال نہیں ہوا‘۔ ہسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ زندہ رکھنے والی مشین پر ہیں اور انہیں ایک اور وارڈ میں منتقل کیا گیا ہے جو ان کی حالت کے لحاظ سے زیادہ موزوں ہے۔ تاہم یاسر عرفات کی بگڑتی ہوئی حالت کی خبروں کے ساتھ ہی اسرائیل نے غرب اردن کے علاقے اور غزہ میں اپنی فوج کو چوکس رہنے کا حکم دیا ہے۔ اسرائیلی چینل ٹو ٹیلی ویژن نے فرانس کے ایک بے نام ذریعے سے خبر نشر کی تھی کہ یاسر عرفات کے دماغ کی سکیننگ کی گئی ہے اور وہ ’مزید زندہ نہیں ہیں‘۔ فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ پیرس میں زیرِ علاج ان کے رہنما یاسر عرفات کی صحت یکدم بگڑ گئی ہے اور وہ کوما میں چلے گئے۔ پیرس میں ہسپتال میں ایک فلسطینی اہلکار نے بی بی سی کے نمائندے کو بتایا کہ یاسر عرفات کوما میں چلے گئے ہیں۔ پیرس میں فوجی ہسپتال میں موجود دوسرے فلسطینی اہلکاروں طیب عبدالرحیم اور حامد رشید نے یاسر عرفات کے کومے میں چلے جانے کی خبروں کی تردید کی۔ اسرائیلی ریڈیو کے مطابق پی ایل او کے سیکریٹری جنرل اور سابق وزیرِ اعظم یاسر عرفات کو دیکھنے پیرس روانہ ہو رہے ہیں۔ یاسر عرفات کا علاج پیرس کے ایک فوجی ہسپتال میں کیا جا رہا ہے۔ فسلطینیوں کی ایک نمائندہ لیلیٰ شاہد نے یاسر عرفات کی بیماری کی تفصیل بتائے بغیراتنا کہا کہ ان کی صحت یکدم خراب ہوئی ہے۔ یاسر عرفات کے ایک ٹیسٹ میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ پچھہتر سالہ عرفات کے خون میں پلیٹلیلٹس کی کمی ہے تا ہم ڈاکٹر یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس کمی کا سبب کیا ہے۔ پلیٹلیٹس خون کو گاڑھا ہونے میں مدد دیتے ہیں۔ یاسر عرفات کو گزشتہ جمعہ کو رملہ میں طبیعت خراب ہونے کے بعد فرانسیسی دارالحکومت پہنچا دیا گیا تھا۔ اس وقت یہ کہا جا رہا تھا کہ گیسٹرک فلو کی شدید تکلیف کے باعث عرفات نڈھال ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||