’ عرفات کی بیماری جان لیوا نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی رہنما یاسر عرفات کےایک سینیئر ساتھی کے مطابق فرانس میں طبی معائنے سے کسی جان لیوا بیماری کا پتہ نہیں چلا ہے۔ نبیل ابو ردینہ نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ عرفات کو جو بھی بیماری ہے وہ قابلِ علاج ہے۔ ابتداء میں یاسر عرفات کے معالجین نے کہا تھا کہ وہ ابھی تک اس امکان کو رد کر رہے ہیں کہ انہیں لیوکیمیا ہے۔ فلسطینی ترجمان کے مطابق طبی عملہ بدھ تک کسی نتیجے پر پہنچے گا۔ یاسر عرفات پیرس کے نواح میں ایک فوجی ہسپتال میں زیرِعلاج ہیں۔ یہ ہسپتال خون کی بیماریوں کے علاج میں خصوصی شہرت کا حامل ہے اور معالجین وہاں مختلف طبی معائنوں سے یاسر عرفات کی پراسرار بیماری کی وجہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جناب ابو ردینہ نے رائٹرز کو بتایا کہ تازہ ترین معائنے سے پتہ چلا ہے کہ یاسر عرفات کسی جان لیوا بیماری کا شکار نہیں اور انکی بیماری قابلِ علاج ہے۔ ادھر ہفتے کو پہلی بارعرفات کی غیر موجودگی میں فلسطینی انتظامیہ کا اجلاس ہوا۔ پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی مغربی کنارے کے شہر رملّہ میں جمع ہوئی۔ فلسطین کے سابق وزیرِاعظم محمود عباس نے یاسرعرفات کی غیر موجودگی میں پی ایل او کے قائم مقام سربراہ کی حیثیت سے میٹنگ کی صدارت کی جبکہ یاسر عرفات کی کرسی خالی رکھی گئی تھی۔ اجلاس کے بعد محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی ادارے معمول کے مطابق کام جاری رکھیں گے۔ ’ ہم صدر سے رابطے میں ہیں اور ابھی تک ان کی ہدایات وصول کر رہے ہیں چونکہ وہ پی ایل او کے سربراہ ہیں‘ محمود عباس کے ایک سابق وزیر نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس اجلاس کا مقصد اس بات کی یقین دہانی کرنا تھا کہ یاسر عرفات کی موت یا ان کے حکومت کرنے سے معذوری کی صورت میں کوئی آئینی خلا پیدا نہ ہو۔
فلسطینی اتھارٹی کے روزانہ کے معاملات وزیرِاعظم احمد قریع کے ہاتھ میں ہیں وہ غزہ اور مغربی کنارے کی سیکیورٹی کی ذمہ دار قومی سلامتی کونسل کا ہفتہ وار اجلاس اتوار کو بلانے والے ہیں۔ یاسرعرفات دو ہفتے سے معدے کے درد میں مبتلا تھے اور بدھ کی رات حالت زیادہ خراب ہونے کی بنا پر ڈاکٹروں نے بیرونِ ملک علاج کا مشورہ دیا تھا۔ خون کے معائنے سے پتہ چلا ہے کہ عرفات کے خون میں ’پلیٹ لیٹس‘ کی کمی ہے جو کہ خون کو گاڑھا کرنے کیلیے ضروری ہوتےہیں۔ جناب عرفات قریباً تین سال میں پہلی بار رملہ میں اپنے مسمار شدہ کمپاؤنڈ سے باہر نکلے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ علاج کے بعد عرفات کی واپسی میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔ لیکن اسرائیلی وزیرِ دفاع اور وزیرِ خارجہ شاید اس بات کی مخالفت کریں۔ جناب ابو ردینہ نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل امریکہ ، یورپی اور عرب اقوام کی درخواست پر یہ ضمانت دے چکا ہے کہ عرفات کو واپس آنے دیا جاۓ گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||