افریقی نژاد ووٹروں کا عزم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی انتخابات میں فلوریڈا کے حوالے سے آپ نے سنا ہوگا کہ وہاں اٹھاون ہزار پوسٹل بیلٹ لاپتہ ہوگئے ہیں۔ اب یہ کاغذی بیلٹ دوبارہ روانہ کیے جارہے ہیں۔ ریاست فلوریڈا سن دوہزار کے صدارتی انتخابات میں بھی زبردست تنازعات کی زد میں رہی تھی اور ڈیموکرٹک پارٹی کا الزام تھا کہ صدر بش کے بھائی اور ریاستی گورنر انتخابی دھاندلی کے ذمہ دار ہیں جس میں نچلے اور محروم طبقات خصوصاً ایفرو امریکی برادری کے ہزاروں ووٹروں کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا تھا۔ فلوریڈا کے شہر ٹیمپا میں ہلزبرا اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر ایونیو کے علاقے میں آتے ہی آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ آپ شہر کے نسبتاً پسماندہ اور غریب علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔ یہاں افریقی نژاد امریکیوں کی اکثریت ہے جو ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی ہیں۔ ان لوگوں کے حقوق کے علمبردار رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے نام پر اس علاقے کا نام تو رکھ دیا گیا لیکن شاید اس کی تقدیر زیادہ نہیں بدلی۔ یہاں کے ووٹر گزشتہ انتخابات کی نہ تو تلخی کو بھولے ہیں نہ اس سال انتظامات سے مطمئن لگتے ہیں۔ ڈینی میک کینن سستی شراب کی ایک دکان سے نکل رہے تھے۔ وہ کہنے لگے: ’میں نہ تو کمپیوٹروں کو جانتا ہوں نہ اس پر اعتبار کرتا ہوں کیونکہ امریکہ میں تو گلی محلے کے بچے بھی ان کمپیوٹروں میں گھس کر کچھ سے کچھ کرسکتے ہیں۔ جارج بش کو تو ہمیں متحد کرنا تھا لیکن وہ ہمیں انتہائی دائیں بازو کی طرف لے جارہے ہیں۔اگر ہم جلد واپس نہیں آتے تو مجھے تو امریکہ کے مستقبل کی فکر ہے۔‘ فلوریڈا میں افریقی نژاد ووٹر ریپبلکن پارٹی کی طرف سے ووٹروں کو چیلنج کرنے کی خبروں پر بھی تشویش رکھتے ہیں۔ بائیس برس کے ایک بے روزگار نوجوان لوئیس لی نے مجھے بتایا: ’وہ ریپبلکن ووٹروں کو چیلنج کررہے ہیں کیونکہ ان کو اندازہ ہوگیا ہے کہ صدر بش فلوریڈا میں ہار رہے ہیں۔ جب تک ریپبلکن پارٹی نے ووٹروں کے ووٹ ڈالنے کے حق کو چیلنج کرنا نہیں شروع کیا تھا، ہم کو تحفظ کا احساس تھا۔ لیکن اب آپ کو چیلنج کیا جائے گا۔ اب یہ کہا جارہا ہے کہ وہ ہمارے ووٹ جانچیں گے۔ امریکہ میں تو ایسا نہیں ہوتا۔ یہ تو ٹھیک نہیں ہے۔ ہم ووٹ دیں گے اور آپ کو انہیں چیلنج نہیں کرنا چاہیے۔‘ میری ملاقات ایک پٹرول پمپ پر کوڑا صاف کرنے میں مصروف ایک خاتون شارلٹ ڈیوس سے ہوئی۔ شارلٹ اپنے سیاسی نقطۂ نظر کے لیے پرعزم ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’جس انداز میں پچھلی بار کے انتخابات ہوئے وہ مجھے بالکل پسند نہیں آیا۔ میں چونکہ افریقی امریکی ہیں تو ہمارے ووٹ گنے ہی نہیں گئے۔ وہ ہمارا ووٹ ڈالنا پسند نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ ہم ووٹ ڈالنے نہیں آئیں گے۔ میں اس بار ان پر اپنے ووٹوں کا فرق واضح کروں گی۔ہم بھرپور کوشش کریں گے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں باہر نکلیں اور ووٹ ڈالیں۔‘ فلوریڈا میں پچھلی بار سب سے بڑا تنازعہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر ہوا تھا۔ اس مرتبہ ریاست میں بڑی تعداد میں ایسی کمپیوٹرائزڈ ووٹنگ مشینیں استعمال کی جارہی ہیں جن میں سکرین کو چھو کر ووٹ ڈالا جارہا ہے لیکن ان مشینوں ڈالے گئے ووٹوں کی جانچ پڑتال اور دوبارہ گنتی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ یہ بات بجائے خود ایک تنازعے کا باعث ہے۔ اس چیز کی وضاحت ہلزبرا کے ایک لاطینی نژاد ووٹر فرنینڈو گونزالیز نے بڑے دلچسپ انداز میں کی۔ انہوں نے کہا: ’یقیناً کاغذی بیلٹ بہتر ہیں کیونکہ ان کے ذریعے دوبارہ گنتی آسانی سے ممکن ہے۔ کبھی بھی یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ مشین پولنگ کی صورتحال کی حقیقی عکاسی کررہی ہے یا نہیں۔ لیکن امریکہ میں مشکل یہ ہے کہ آپ برگر لینے جاتے ہیں تو یہ نہیں کہتے اس میں چیز ڈال دو، ٹماٹر اور پیاز ڈال دو۔ امریکہ میں تو بس کہہ دیتے ہیں کہ نمبر ایک دے دو یا دو نمبر دے دو۔ امریکی تو چاہتے ہیں الیکشن ہوں تو بس چھ بجے ہی نتیجہ سامنے آجائے۔‘ اب جبکہ صدارتی انتخابات محض چند دن دور رہ گئے ہیں، پچھلی بار کی مانند ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فلوریڈا میں ایک بار پھر گھمسان کا انتخابی رن پڑنے والا ہے۔ لیکن کم ازکم اس بارفلوریڈا کےافریقی نژاد امریکی اس بات کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں کہ کوئی ان کو ووٹ دینے کے ان کے جمہوری حق سے محروم کردے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||