BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 October, 2004, 08:06 GMT 13:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ کے مہنگے ترین الیکشن

بش
امریکہ میں صدارتی انتخابات اب بہت دور نہیں رہ گئے ہیں اور دونوں ہی جماعتیں اپنے وسائل دل کھول کر استعمال کررہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق موجودہ انتخابات امریکی تاریخ کے مہنگے ترین الیکشن ثابت ہونگے۔

امریکہ میں انتخابات، خصوصاً صدارتی الیکشن ایک پوری صنعت کا درجہ رکھتے ہیں جس میں پیشہ وراشتہاری اداروں، رائے عامہ کا جائزہ لینے والے گروپ اور تعلقات عامہ کی کمپنیاں سب ہی بھرپور طور پر سرگرم ہوتی ہیں۔ لیکن اس سب کے لیے وسائل بھی بہت زیادہ درکار ہوتے ہیں۔ امریکہ جیسے ملک میں جہاں وسائل کی کوئی کمی نہیں، تمام سیاسی جماعتیں الیکشن میں وسائل کا بے دریغ استعمال کرتی ہیں۔

تاہم اس بار کے انتخابات میں اخراجات پچھلے تمام ہی اعدادوشمار سے آگے بڑھ گئے ہیں۔ امریکہ میں انتخابی اخراجات کا حساب رکھنے والے ایک غیرمنافع بخش اور غیرجانبدار ادارے سینٹر فار رسپونسیو پولیٹکس کے مطابق اس بار صدارتی اور کانگریس کے انتخابات میں مجموعی اخراجات تقریباً چار ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے جبکہ چار برس پہلے کے انتخابات میں کل اخراجات تین ارب ڈالر تک تھے۔

سینٹر فار رسپونسیو پولیٹکس کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ انتخابات میں صرف صدارتی الیکشن کے اخراجات بھی تاریخ میں پہلی بار ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرجائیں گے۔ یہ اعدادوشمار یوں حیرت انگیز ہیں کہ انتخابات کے مجموعی اخراجات بہت سے ترقی پذیر ایشیائی اور افریقی ملکوں کے سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہیں۔ لیکن کیا ان انتخابات میں کم وسائل سے کام نہیں چل سکتا۔

امریکی وفاقی الیکشن کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق صدارتی انتخابات کے لیے صدر جارج بش نے تقریباً چالیس کروڑ ڈالر جمع کیے ہیں جبکہ ان کے ڈیموکریٹ حریف بھی ان سے کچھ زیادہ پیچھے نہیں اور اب تک کوئی بتیس کروڑ ڈالر اکٹھے میں کامیاب رہے ہیں۔ دونوں بڑی جماعتوں کے مقابلے میں چھوٹے امیدوار بھی اپنا ٹمٹماتا چراغ روشن رکھنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں لیکن سیاسی تالاب کے دونوں بڑے مگرمچھوں کا کوئی زیادہ مقابلہ نہیں کرپاتے۔ مثلاً آزاد امیدوار رالف ناڈر نے کوئی تیس لاکھ ڈالر جمع کیے ہیں جبکہ باقی تینوں آزاد امیدواروں مائیکل بیڈنارک، مائیکل پیروٹکا اور ڈیوڈ کوب مل کر بھی لگ بھگ گیارہ لاکھ ڈالر ہی جمع کرپائے۔ ہر سیاسی جماعت امریکی الیکشن قوانین کے مطابق اپنے اخراجات کا حساب جمع کرانے کی پابند ہوتی ہیں اور جمع کرائے گئے اعدادوشمار کے مطابق تین روز پہلے تک صدر بش اپنی انتخابی مہم پر چوبیس کروڑ سے زیادہ خرچ کرچکے ہیں جبکہ جان کیری نے بائیس کروڑ ڈالر اب تک انتخابات کی نذر کیے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد