حامد کرزئی جیت گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کابل سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حامد کرزئی افغانستان میں ہونے والے انتخابات کے دوران دیئے گئے ووٹوں کی کُل تعداد کے نصف حصے سے زائد ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہو گئے ہیں۔ تاہم ماہرین کا ایک پینل انتخابات میں ہونے والی بدنظمیوں کی چھان بین ایک ہفتے میں مکمل کر لے گا جس کے بعد انتخابات کے حتمی نتائج کا سرکاری اعلان کیا جائے گا۔ حامد کرزئی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ہونے والے پہلے جمہوری صدارتی انتخابات میں حامد کرزئی کو واضح کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ نوے فیصد ووٹوں کی گنتی سے حاصل ہونے والے ابتدائی نتائج کے مطابق حامد کرزئی کو تقریباً پچپن فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں جو دو ہفتے قبل ہونے والے الیکشن میں دیئے گئے ووٹوں کی مجموعی تعداد کے نصف سے زائد ووٹ ہیں۔ حامد کرزئی کے اہم مدِمقابل اور سابق وزیر تعلیم یونس قانونی کو سترہ فیصد ووٹ ملے اور انہوں نے حامد کرزئی کی جیت کو تسلیم کر لیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے اس ماہ کے آخر میں ایک باضابطہ بیان کی توقع ہے کیونکہ اس وقت تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہو جائے گی اور اقوام متحدہ کا مقرر کردہ تین رکنی پینل انتخابات میں بدنظمیوں کی چھان بین مکمل کر لے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||