فلوجہ میں امن کے امکانات معدوم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مزاحمت کاروں سے رابطہ رکھنے والے ایک عالم کے مطابق فلوجہ میں امن کے لیے بات چیت ختم کی جا رہی ہے۔ خالد الجمیلی نامی سُنی عالم امریکی فوج اور سُنی اکثریت والے علاقوں میں برسرپیکار مزاحمت کاروں کے مابین امن مذاکرات شروع کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بیان امریکی فوج کی حراست سے رہائی کے بعد دیا۔ انہیں امریکی فوج نے کئی روز پہلے حراست میں لے لیا تھا۔ انہوں نے کہا امن مذاکرات میں خاصی پیش رفت ہو چکی تھی لیکن فلوجہ کے لوگوں نے امریکی پالیسیوں اور ان کی گرفتاری کی وجہ سے مذاکرات معطل کر دیئے تھے۔ عراقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ الجمیلی کو ملک کے عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی کے حکم پر رہا کیا گیا ہے۔ دریں اثنا گزشتہ رات بغداد میں آسٹریلوی سفارتخانے کے نزدیک ایک کیفے کے باہر ایک کار بم دھماکے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور بیس کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔ ایک امریکی فوجی ترجمان کے مطابق دھماکہ اس کیفے کے باہر ہوا جو عراقی پولیس کے اہلکاروں میں کافی مقبول ہے۔ مزاحمت کار اکثر عراقی پولیس کے خلاف کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق عراقی پولیس کے اہلکار کیفے میں افطار کے لیے جمع ہوئے تھے اور دھماکے کے وقت کھانا کھا رہے تھے۔ دریں اثناء عراق کی عبوری حکومت نے صدر سٹی میں شیعہ رہنما مقدایٰ الصدر کے حامیوں سے اسلحے کی واپسی کی ڈیڈلائن میں توسیع کر دی ہے۔ اب الصدر کے حامیوں کے پاس بھاری اسلحہ واپس کرنے کے لیے مزید پانچ دن ہیں۔ اس سے قبل بغداد کے جنوب میں لطیفیہ کے پاس عراقی پولیس کے نو اہلکار ہلاک ہوگئے جب ان پر چھپ کر حملہ کیا گیا تھا۔ ان اہلکاروں کی منی بس پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ اردن میں تربیت حاصل کرنے کے بعد کربلا واپس آرہے تھے۔ پولیس نے بتایا کہ اس حملے میں کوئی بھی نہیں بچا اور حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ادھر عراقی شہر فلوجہ کے مشرقی کنارے پر مزاحمت کاروں اور امریکی افواج کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق امریکی ٹینکوں نے مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں پر گولے برسائے اور جواب میں ان پر مارٹر اور گرینیڈ پھینکے گئے۔ فلوجہ میں لگ بھگ تین لاکھ باشندے ہیں۔ امریکی فوج نے جمعرات سے شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ ہسپتال کے ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ شب امریکی فضائی حملے میں تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ امریکی بمبار طیارے لگ بھگ روزانہ ہی فلوجہ پر بم برسا رہے ہیں۔ فلوجہ کے بعض علاقوں میں گزشتہ چند ہفتوں سے لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||