فلوجہ: شدید فضائی اور زمینی حملے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے فلوجہ میں مزاحمت کاروں پر شدید فضائی اور زمینی حملے شروع کر دیئے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ بغداد کے مغرب میں فلوجہ شہر پر حملہ فضائی اور بری فوج کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ ادھر عراقی عبوری حکومت نے عوام سے کہا ہے کہ وہ یا تو مطلوب شدت پسند رہنما ابو مصاب الزرقاوی کو حکومت کے حوالے کر دیں یا پھر شہر پر چڑھائی کے لیے تیار رہیں۔ تاہم پینٹاگون کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ آپریشن شہر پر قبضہ کرنے کے لیے نہیں کیا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے طیاروں نے شدت پسندوں کے منصوبہ بندی کے سینٹر پر حملہ کیا ہے۔ فلوجہ کے رہنماؤں اور عبوری حکومت کے درمیان امن مذاکرات ابھی تک تعطل کا شکار ہیں۔ فلوجہ کے ایک مقامی ترجمان ابو اسد کا کہنا ہے کہ ’ابو مصاب الزرقاوی کو حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ پورا کرنا بالکل ناممکن ہے کیونکہ اس شدت پسند رہنما کو تو امریکی بھی نہیں پکڑ سکے ہیں‘۔ ایک ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں ابو مصاب الزرقاوی کے گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دھماکے اس نے کروایا ہے۔ گروہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اس کا سب سے ’کامیاب آپریشن تھا‘۔ ان دھماکوں میں چار امریکیوں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||