بابل اور فلوجہ میں امریکی آپریشن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سنٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ تین ہزار سے زائد امریکی اور عراقی فورسز نے بغداد کے جنوب میں مزاحمت کاروں کے ایک ٹھکانے پر کارروائی شروع کردی ہے۔ عراق کے صوبہ بابل میں اس کارروائی کی شروعات کے دوران تیس سے زائد مشتبہ مزاحمت کاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق امریکی اور عراقی فورسز نے مزاحمت کاروں کے ایک تربیتی کیمپ پر قبضہ کرلیا اور دریائے فرات پر ایک پُل کا کنٹرول حاصل کرلیا جس کے ذریعے مزاحمت کار استعمال بغداد اور فلوجہ میں داخل ہوتے تھے۔ بغداد کے شمال میں واقع شہر سمارا میں اس اختتام ہفتہ کی کامیاب کارروائی کے بعد کیے جانے والے اس فوجی آپریشن کا مرکز صوبہ بابل میں ہلہ کے پاس ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی اور عراقی فورسز سمارا میں کامیابی کے بعد اب ہلہ میں کامیاب آپریشن کی امید کررہے ہیں۔ امریکی سنٹرل کمانڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فوجی آپریشن کا مقصد ”صوبے کے لگ بھگ نو لاکھ شہریوں کے لئے استحکام اور سیکیورٹی قائم کرنے میں حکام کی مدد کرنا ہے۔” بیان کے مطابق صوبے میں کی جانے والی مختلف کارروائیوں میں گزشتہ جولائی سے اب تک ایک سو ساٹھ سے زائد مزاحمت کار گرفتار کیے گئے ہیں۔ امریکی فضائی طیاروں نے فلوجہ میں ایک گھر پر بھی بمباری کی ہے جس کے بارے میں امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہاں مزاحمت کاروں کے ایک گروہ کے رہنما پناہ لیتے تھے۔ امریکی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس گھر پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہاں ابو مصعب الزرقاوی کے کارکن ایک میٹنگ کررہے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||