بغداد میں ہتھیاروں سے دستبرداری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مقتدیٰ الصدر کے حامیوں سے بھاری ہتھیاروں کی واپسی پیر سے متوقع ہے اور امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ نے کہا ہے کہ انتخابات سے پہلے سلامتی کی صورتِ حال مخدوش ہی ہو گی۔ ہتھیاروں کی یہ واپسی ایک معاہدے کے تحت ہو رہی ہے۔ امریکہ اس مفاہمت کے نتیجے میں صدر سٹی پر فضائی حملے بند کر دے گا اور صدر سٹی کی تعمیر و ترقی کے لیے فنڈز دیے جائیں گے۔ ہتھیاروں کی واپسی کے لیے پانچ دن کی مہلت مقرر کی گئی ہے اور یہ بھی طے پایا ہے کہ صدر سٹی کے گشت پر امریکیوں کی بجائے عراقی جائیں گے۔ اس دوران بغداد میں دو دھماکے ہوئے ہیں جن میں گیارہ افراد ہلاک بتائے جاتے ہیں۔ یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے جب امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ عراق میں امریکی فوجیوں سے ملنے کے لیے پہنچے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے عراقی کمانڈروں سے جنوری میں ہونے والے انتخابات سے پہلے مزاحمت کاروں کا خاتمہ کرنے کے بارے میں صلاح مشورے کیے۔ رمزفیلڈ نے کہا کہ امریکہ عراق میں الیکشن ہونے تک اپنے فوجی دستوں میں کمی نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے ساتھی عراقی مزاحمت کاروں کے ساتھ ایک جنگ لڑ رہے ہیں اور مزاحمت کار جانتے ہیں کہ وہ ’ہماری فوج کو نہیں ہرا سکتے اس لیے وہ ہمارے ارادوں کو شکشت دینا چاہتے ہیں۔‘ یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ اس مفاہمت کے نتیجے میں سیاسی قیدی بھی رہا کیے جائیں گے تاہم اب جو تفصیلات آ رہی ہیں ان میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا مزاحمت کاروں کو ہتھیاروں کا معاوضہ دیا جائے گا۔ صدر سٹی ایک بہت بڑی کچی آبادی ہے جس میں بیس لاکھ سے زائد افراد رہتے ہیں۔ اس سے پہلے ملنے والی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ دھماکوں میں ایک امریکی فوجی سمیت اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور یہ دھماکہ اتنا طاقتور تھا کہ اس سے وزارت ِپٹرولیم کے قریب سڑک پر ایک بہت بڑا گڑھا بن گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||